مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ لَمْ يَنْتَفِعْ بِعِلْمِهِ . باب: ایسے شخص کا بیان جو اپنے علم کے ذریعے نفع حاصل نہ کرے
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى حَيٍّ مِنْ قَيْسٍ أُعَلِّمُهُمْ شَرَائِعَ الْإِسْلَامَ ، فَإِذَا قَوْمٌ كَأَنَّهُمُ الْإِبِلُ الْوَحْشِيَّةُ ، طَامِحَةً أَبْصَارُهُمْ ، لَيْسَ لَهُمْ هَمَّ إِلَّا شَاةٌ أَوْ بَعِيرٌ ، فَانْصَرَفْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا عَمَّارُ ، مَا عَمِلْتَ ؟ " فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ قِصَّةَ الْقَوْمِ وَأَخْبَرْتُهُ بِمَا فِيهِمْ مِنَ السَّهْوَةِ . قَالَ : " يَا عَمَّارُ ، أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَعْجَبَ مِنْهُمْ ؟ قَوْمٌ عَلِمُوا مَا جَهِلَ أُولَئِكَ ، ثُمَّ سَهُوا كَسَهْوِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَزْرَمِيُّ ، قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ : مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قیس قبیلے کی ایک شاخ کی طرف بھیجا تاکہ میں اُن لوگوں کو اسلامی احکام کی تعلیم دوں ، وہ لوگ وحشی اونٹوں کی طرح تھے ، ان کی توجہ منتشر رہتی تھی ، اُن کی تمام تر پریشانی بکریوں ، یا اونٹوں کے بارے میں تھی ، میں واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے عمار ! تم نے کیا عمل کیا ؟ میں نے اُن لوگوں کا پورا واقعہ آپ کو بتایا ، ان لوگوں کی غیر دلچسپی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے عمار ! کیا میں تمہیں ان سے زیادہ عجیب لوگوں کے بارے میں بتاؤں ؟ یہ وہ لوگ ہوں گے ، جنہیں ان چیزوں کا علم حاصل ہو گا ، جن کا علم ان لوگوں کو نہیں ہے اور پھر بھی وہ ( یعنی جنہیں علم ہو گا ) وہ اُن لوگوں کی طرح عدم دلچسپی کا اظہار کریں گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباد بن أحمد عزرمی ہے ، امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہ متروک ہے ۔