مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ لَمْ يَنْتَفِعْ بِعِلْمِهِ . باب: ایسے شخص کا بیان جو اپنے علم کے ذریعے نفع حاصل نہ کرے
وَعَنْ أَبِي تَمِيمَةَ ، عَنْ جُنْدُبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَزْدِيُّ صَاحِبُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : انْطَلَقْتُ أَنَا وَهُوَ إِلَى الْبَصْرَةِ حَتَّى أَتَيْنَا مَكَانًا يُقَالُ لَهُ : بَيْتُ الْمِسْكِينِ ، وَهُوَ مِنَ الْبَصْرَةِ عَلَى مِثْلِ النَّوْبَةِ ، فَقَالَ : هَلْ كُنْتُ تُدَارِسُ أَحَدًا الْقُرْآنَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَإِذَا أَتَيْنَا الْبَصْرَةَ فَأْتِنِي بِهِمْ . فَأَتَيْتُهُ بِصَالِحِ بْنِ مِسْرَحٍ ، وَبِأَبِي بِلَالٍ وَبِجَدِّهِ ، وَنَافِعِ بْنِ الْأَزْرَقِ ، وَهُمْ فِي نَفْسِي يَوْمَئِذٍ مِنْ أَفَاضِلِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ، فَأَنْشَأَ يُحَدِّثُنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ جُنْدُبٌ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَثَلُ الْعَالِمُ الَّذِي يُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَيْرَ وَيَنْسَى نَفْسَهُ كَمَثَلِ السِّرَاجِ ، يُضِيءُ لِلنَّاسِ وَيَحْرِقُ نَفْسَهُ " . ¤ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَحُولَنَّ بَيْنَ أَحَدِكُمْ وَبَيْنَ الْجَنَّةِ وَهُوَ يَنْظُرُ إِلَى أَبْوَابِهَا مِلْءُ كَفٍّ مِنْ دَمٍ أَهْرَاقَهُ ظُلْمًا " . قَالَ : فَتَكَلَّمَ الْقَوْمُ ، فَذَكَرُوا الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ ، وَهُوَ سَاكِتٌ يَسْمَعُ مِنْهُمْ ، ثُمَّ قَالَ : لَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ قَطُّ ، قَوْمٌ أَحَقُّ بِالنَّجَاةِ إِنْ كَانُوا صَادِقِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَلَهُ طَرِيقٌ تَأْتِي فِي قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤ابوتمیمہ سیدنا جندب بن عبداللہ ازدی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نقل کرتے ہیں ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ، ابوتمیمہ بیان کرتے ہیں : میں اور وہ بصرہ کی طرف جا رہے تھے ، یہاں تک کہ ہم ایک جگہ کے پاس پہنچے جس کا نام ” بیت مسکین “ تھا ، وہ بصرہ سے اُتنی ہی دور تھی ، جس طرح ” نوبہ “ ہے ، انہوں نے دریافت کیا : کیا تم نے کبھی کسی کو قرآن پڑھایا ہے ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! انہوں نے فرمایا : جب ہم بصرہ پہنچ جائیں گے ، تو تم اُن لوگوں کو میرے پاس لے کر آنا ، تو میں اُن کے پاس صالح بن مسرح ، ابوبلال اور اس کے دادا اور نافع بن ازرق کو لے کر آیا ، میرے نزدیک یہ لوگ اُس وقت اہل بصرہ کے فاضل ترین لوگ تھے ، تو انہوں نے مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے احادیث بیان کرنا شروع کیں ، سیدنا جندب رضی اللہ عنہ نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو عالم لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دیتا ہے اور خود کو بھول جاتا ہے ، اُس کی مثال چراغ کی طرح ہے ، جو لوگوں کو روشنی دیتا ہے اور اپنے آپ کو جلا لیتا ہے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے : ” ( کہیں ایسا نہ ہو ) کہ جب کوئی شخص جنت کے دروازوں کی طرف دیکھ رہا ہو ، اُس وقت اس شخص اور جنت کے درمیان مٹھی بھر خون حائل ہو جائے ، جسے اُس نے ظلم کے طور پر بہایا تھا ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : پھر حاضرین نے بات چیت شروع کی اور اُن لوگوں نے نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کا ذکر کیا ، تو سیدنا جندب رضی اللہ عنہ خاموش رہ کر ان کی باتیں سنتے رہے ، پھر انہوں نے فرمایا : میں نے آج کے دن کی طرح کے لوگ کبھی نہیں دیکھے ، جو نجات کے زیادہ حقدار ہوں ، لیکن شرط یہ ہے کہ یہ سچے ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی اور بھی سند ہے جو باغیوں سے جنگ کرنے سے متعلق باب میں آئے گی ، اس روایت کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔