مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب اللباس— لباس کے بارے میں روایات
بَابُ اسْتِعْمَالِ الذَّهَبِ . باب: سونا استعمال کرنا
وَعَنْ أُمِّ الْكِرَامِ أَنَّهَا حَجَّتْ ، فَلَقِيَتِ امْرَأَةً بِمَكَّةَ كَبِيرَةَ الْحَشَمِ لَيْسَ عَلَيْهِنَّ حُلِيٌّ إِلَّا الْفِضَّةَ [ فَقُلْتُ لَهَا : مَا لِي لَا أَرَى عَلَى أَحَدٍ مِنْ حَشَمِكِ حُلِيًّا إِلَّا الْفِضَّةَ ] قَالَتْ : كَانَ جَدِّي عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا مَعَهُ وَعَلَيَّ قُرْطَانِ مِنْ ذَهَبٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَهْبَتَيْنِ مِنْ نَارٍ " . فَنَحْنُ أَهْلُ بَيْتٍ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَّا يَلْبَسُ حُلِيًّا إِلَّا الْفِضَّةَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . وَأُمِّ الْكِرَامِ : لَمْ أَعْرِفْهَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ام کرام بیان کرتی ہیں : وہ حج کے لئے گئیں مکہ میں ان کی ملاقات ایک بھاری بھرکم خاتون سے ہوئی جس کے جسم پر کوئی زیور نہیں تھا صرف چاندی تھی میں نے اس سے دریافت کیا : کیا وجہ ہے آپ کے جسم پر کوئی زیور نظر نہیں آ رہا صرف چاندی ہے ، تو اس خاتون نے بتایا کہ میرے دادا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے میں اپنے دادا کے ساتھ تھی میرے جسم پر سونے کی بنی ہوئی دو بالیاں تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آگ کی بنی ہوئی دو بالیاں ہیں ۔ تو اس خاتون نے بتایا : ) ہمارے خاندان کی عورتیں کوئی زیور نہیں پہنتی ہیں صرف چاندی پہنتی ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ ام کرام نامی خاتون سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔