حدیث نمبر: 86
وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا نَكُونُ عِنْدَكَ عَلَى حَالٍ حَتَّى إِذَا فَارَقْنَاكَ نَكُونُ عَلَى غَيْرِهِ . قَالَ : " كَيْفَ أَنْتُمْ وَنَبِيُّكُمْ ؟ " قَالُوا : أَنْتَ نَبِيُّنَا فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ . قَالَ : " لَيْسَ ذَاكَ النِّفَاقَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، إِلَّا أَنَّ الْبَزَّارَ قَالَ : " كَيْفَ أَنْتُمْ وَرَبُّكُمْ ؟ " قَالُوا : اللَّهُ رَبُّنَا فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ . وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جب ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں ، تو ہماری مخصوص کیفیت ہوتی ہے ، اور جب ہم آپ سے جدا ہوتے ہیں ، تو وہ کیفیت تبدیل ہو جاتی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہارا ، اپنے نبی کے ساتھ تعلق کیسا ہے ؟ “ انہوں نے عرض کی : پوشیدہ اور علانیہ ( ہر حال میں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے نبی ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ چیز ( یعنی کیفیات کا تبدیل ہونا ) منافقت نہیں ہے “ ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم امام بزار کے الفاظ یہ ہیں : ” تمہارا اور تمہارے پروردگار کا تعلق کیسا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : پوشیدہ اور علانیہ ( ہر حال میں ) اللہ تعالی ہمارا پروردگار ہے “ ۔
امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 86
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «اخرجه الامام أبو يعلى فى مسنده 3356 أورده المؤلف فى كشف الأستار 52»