حدیث نمبر: 85
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ أَحَدَنَا يُحَدِّثُ نَفْسَهُ بِالشَّيْءِ الَّذِي لَأَنْ يَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَيَتَقَطَّعَ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ذَاكَ مَحْضُ الْإِيمَانِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا يَزِيدَ بْنَ أَبَانٍ الرَّقَاشِيَّ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ بعض اوقات ہم میں سے کسی ایک کو ایسا خیال آتا ہے کہ اگر وہ آسمان سے گرے اور اس کے ٹکڑے ہو جائیں ، تو یہ چیز اُس شخص کے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گی کہ وہ اس خیال کے بارے میں کلام کرے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :” یہ محض ایمان ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کے راوی صحیح کے رجال ہیں ، صرف یزید بن ابان رقاشی کا معاملہ مختلف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 85
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 4114»