حدیث نمبر: 84
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ عُمَرَ مَرَّ عَلَى عُثْمَانَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ ، فَدَخَلَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فَاشْتَكَى ذَلِكَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : مَرَرْتُ عَلَى عُثْمَانَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ ، فَقَالَ : أَيْنَ هُوَ ؟ قَالَ : هُوَ فِي الْمَسْجِدِ قَاعِدٌ ، فَانْطَلَقَا إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ : مَا مَنَعَكَ أَنْ تَرُدَّ عَلَى أَخِيكَ حِينَ سَلَّمَ عَلَيْكَ ؟ قَالَ : وَاللَّهِ مَا شَعَرْتُ أَنَّهُ مَرَّ بِي ، وَأَنَا أُحَدِّثُ نَفْسِي فَلَمْ أَشْعُرْ أَنَّهُ سَلَّمَ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : فَمَاذَا تُحَدِّثُ نَفْسَكَ ؟ قَالَ : خَلَا بِي الشَّيْطَانُ فَجَعَلَ يُلْقِي فِي نَفْسِي أَشْيَاءَ مَا أُحِبُّ أَنِّي تَكَلَّمْتُ بِهَا وَإِنَّ لِي مَا عَلَى الْأَرْضِ ، قُلْتُ فِي نَفْسِي حِينَ أَلْقَى الشَّيْطَانُ ذَلِكَ فِي نَفْسِي : يَا لَيْتَنِي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَا الَّذِي يُنْجِينَا مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ الَّذِي يُلْقِي الشَّيْطَانُ فِي أَنْفُسِنَا ؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : فَإِنِّي وَاللَّهِ لَقَدِ اشْتَكَيْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسَأَلْتُهُ : مَا الَّذِي يُنْجِينَا مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ الَّذِي يُلْقِي الشَّيْطَانُ فِي أَنْفُسِنَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُنْجِيكُمْ مِنْ ذَلِكَ أَنْ تَقُولُوا مِثْلَ الَّذِي أَمَرْتُ بِهِ عَمِّي عِنْدَ الْمَوْتِ فَلَمْ يَفْعَلْ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَعِنْدَ أَحْمَدَ طَرَفٌ مِنْهُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ أَبُو الْحُوَيْرِثِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُعَاوِيَةَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین

محمد بن جبیر بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا گزر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا ، جو مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں سلام کیا ، لیکن انہوں نے جواب نہیں دیا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان کے سامنے شکایت کی ، اور یہ بتایا کہ میں عثمان کے پاس سے گزرا تھا ، میں نے اُسے سلام کیا تھا ، لیکن اس نے مجھے جواب نہیں دیا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ کہاں ہے ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا : وہ مسجد میں بیٹھا ہوا ہے ، یہ دونوں حضرات ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اُن سے دریافت کیا : آپ کے بھائی نے جب آپ کو سلام کیا تھا ، تو آپ نے اسے جواب کیوں نہیں دیا ؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! مجھے تو پتہ ہی نہیں چلا کہ یہ میرے پاس سے گزرے ہیں ، میں اپنے خیالوں میں گم تھا ، اس لیے مجھے پتہ نہیں چل سکا ، کہ انہوں نے سلام کیا ہے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : آپ کن خیالوں میں گم تھے ؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بتایا : جب میں اکیلا ہوتا ہوں ، تو شیطان میرے ذہن میں ایسے خیالات ڈالتا ہے کہ مجھے یہ پسند نہیں ہے ، کہ میں اُن کے بارے میں بات چیت کروں ، اگرچہ اس کے بدلے میں مجھے روئے زمین پر موجود ہر چیز مل رہی ہو ، جب شیطان میرے ذہن میں اس طرح کے خیال ڈالتا ہے ، تو میں دل میں سوچتا ہوں ، کاش میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا ہوتا ، کہ شیطان ہمارے ذہنوں میں اس طرح کے خیال پیدا کرتا ہے تو اس سے کیا چیز ہمیں نجات دے سکتی ہے ؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے : اللہ کی قسم ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اسی چیز کی شکایت کی تھی اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا تھا ، شیطان ہمارے ذہنوں میں جو خیال ڈالتا ہے ، کیا چیز اُس سے ہمیں نجات دے سکتی ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا : اس سے تمہیں وہ چیز نجات دے سکتی ہے ، کہ تم وہ ( کلمہ ) پڑھو ، جو میں نے اپنے چچا کو پڑھنے کے لیے کہا تھا ، جب اُن کا انتقال ہونے لگا تھا ، تو انہوں نے ایسا نہیں کیا تھا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام أحمد نے اس کا ایک حصہ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوحویرث عبدالرحمن بن معاویہ ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، تاہم اکثر اہل علم نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 84
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 128 اورده المؤلف فى المقصد العلى 29»