حدیث نمبر: 8455
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدِهِ : فَانْطَلَقَتْ بِي أُمِّي إِلَى رَجُلٍ جَالِسٍ فِي الْجَبَّانَةِ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ : " يَا لَبَّيْكِ وَسَعْدَيْكِ " . ثُمَّ أَدْنَتْنِي مِنْهُ فَجَعَلَ يَنْفُثُ وَيَتَكَلَّمُ بِكَلَامٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ ، فَسَأَلْتُ أُمِّي بَعْدَ ذَلِكَ : مَا كَانَ يَقُولُ ؟ قَالَتْ : كَانَ يَقُولُ : " أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي وَلَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ " . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَرِجَالُ هَذِهِ الطَّرِيقِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

” میری والدہ مجھے لے کر ایک صاحب کے پاس گئیں ، جو ایک قبرستان کے پاس تشریف فرماتے تھے ، میری والدہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں متوجہ ہوں ، پھر میری والدہ نے مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دم کرنا شروع کیا اور کچھ کلام پڑھنا شروع کیا ، مجھے نہیں معلوم کہ وہ کیا تھا ؟ بعد میں ، میں نے اپنی والدہ سے معلوم کیا کہ وہ کیا کلمات تھے ، تو انہوں نے بتایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پڑھا تھا : ” اے لوگوں کے پروردگار ! تو تکلیف کو رخصت کر دے ، تو شفاء عطا کر دے ، تو شفاء عطا کرنے والا ہے ، شفاء عطا کرنے والا صرف ، تو ہی ہے “ ۔ امام أحمد کے رجال اور اس طریق کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8455
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (418/3)»