حدیث نمبر: 8454
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ قَالَ : دُنِّيتُ إِلَى قِدْرٍ وَهِيَ تَغْلِي ، فَأَدْخَلْتُ يَدِي فِيهَا فَاحْتَرَقَتْ ، أَوْ قَالَ : فَوَرِمَتْ فَذَهَبَتْ بِي أُمِّي إِلَى رَجُلٍ بِالْبَطْحَاءِ ، فَقَالَ شَيْئًا وَنَفَثَ ، فَلَمَّا كَانَ فِي إِمْرَةِ عُثْمَانَ قُلْتُ لِأُمِّي : مَنْ كَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ ؟ قَالَتْ : رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهَا قَالَتْ : يَا مُحَمَّدُ احْتَرَقَتْ يَدُ مُحَمَّدٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ایک ہنڈیا کے قریب آ گیا جو کھول رہی تھی میں نے اپنا ہاتھ اس میں ڈال دیا تو وہ ہاتھ جل گیا راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : تو اسے دورم آ گیا میری والدہ مجھے لے کر ایک شخص کے پاس گئیں جو بطحاء میں موجود تھا اس نے کچھ پڑھا اور ساتھ پھونک ماری جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا عہد خلافت آیا تو میں نے اپنی والدہ سے دریافت کیا : وہ صاحب کون تھے ؟ انہوں نے بتایا : وہ اللہ کے رسول تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ( میرے بیٹے ) محمد کا ہاتھ جل گیا ہے “ ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8454
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (436/19) اخرجه احمد فى المسند (418/3)»