کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نظر لگنے ، بیماری ، یا س کے علاوہ کسی چیز کے لئے دم کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 8434
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " دَخَلَتِ الْجَنَّةَ أُمَّةٌ بِقَضِّهَا وَقَضِيضِهَا ، كَانُوا لَا يَسْتَرْقُونَ ، وَلَا يَكْتَوُونَ ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤ وَفِي هَذَا أَحَادِيثُ فِيمَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ صِحَاحٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک امت اپنے سب لوگوں سمیت ، جنت میں داخل ہو جائے گی ، یہ وہ لوگ ہیں ، جو دم نہیں کرواتے ہوں گے ، داغ نہیں لگواتے ہوں گے ، اپنے پروردگار پر توکل کرتے ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس نوعیت کی احادیث جو ” صحیح “ ہیں ، وہ اس شخص کے بارے میں ہیں ، جو جنت میں کسی حساب کے بغیر داخل ہو گا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8434
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
حدیث نمبر: 8435
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " ثَلَاثَةٌ مِنَ السِّحْرِ : الرُّقَى ، وَالتِّوَلُ ، وَالتَّمَائِمُ " . ¤ قَالَ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ : التِّوَلُ : الْمَرْأَةُ تُوجِدُ زَوْجَهَا حَتَّى يُحِبَّهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تین چیزیں جادو کا حصہ ہیں ، دم کرنا ( یعنی جھاڑ پھونک ) ، تول ، اور تعویذ “ ۔ علی بن یزید کہتے ہیں : تول سے مراد یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر کے لئے کوئی ایسا عمل کرے کہ شوہر اس سے محبت کرنے لگے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8435
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7823)»
حدیث نمبر: 8436
وَعَنْ جَبَلَّةَ بْنِ الْأَزْرَقِ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى بِأَصْحَابِهِ إِلَى جَنْبِ جِدَارٍ كَثِيرِ الْأَحْجِرَةِ صَلَاةَ الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ ، فَلَمَّا جَلَسَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ ، خَرَجَتْ عَقْرَبٌ فَلَدَغَتْهُ ، فَغُشِيَ عَلَيْهِ ، فَرَّقَاهُ النَّاسُ ، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ : " اللَّهُ شَفَانِي وَلَيْسَ بِرُقْيَتِكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ بَكْرِ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَالِحٍ كَاتِبِ اللَّيْثِ ، وَكِلَاهُمَا قَدْ ضُعِّفَ وَوُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جبلہ بن ازرق رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو ایک ایسی دیوار کے پہلو میں نماز پڑھائی ، جس پر پتھر بہت زیادہ تھے ، آپ نے ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی تھی ، جب آپ دو رکعت کے بعد بیٹھ گئے ، تو ایک بچھو نکلا ، جس نے آپ ڈنک مارا ، آپ پر بے ہوشی طاری ہوئی ، لوگوں نے آپ کو دم کیا ، جب آپ کو ہوش آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے مجھے شفاء دی ہے ، تمہارے دم نے شفاء نہیں دی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد بکر بن سہل کے حوالے سے عبداللہ بن صالح سے نقل کی ہے ۔ جو عبداللہ کاتب ہے ، اور ان دونوں کو ضعیف قرار دیا گیا ہے ، اور ان کی توثیق بھی کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8436
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2196)»
حدیث نمبر: 8437
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِأَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ : " مَا شَأْنُ أَجْسَامِ بَنِي أَخِي ضَارِعَةً ، أَتُصِيبُهُمْ حَاجَةٌ ؟ " قَالَتْ : لَا ، وَلَكِنْ تُسْرِعُ إِلَيْهِمُ الْعَيْنُ ، أَفَنَرْقِيهِمْ ؟ قَالَ : " وَبِمَاذَا ؟ " فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ فَقَالَ : " ارْقِيهِمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے فرمایا : کیا وجہ ہے ، میرے بھتیجوں کے جسم کمزور ہو گئے ہیں کیا انہیں بھوک لاحق ہوئی ہے ؟ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے عرض کی : جی نہیں ! انہیں نظر جلدی لگ جاتی ہے ، کیا ہم انہیں دم کر دیا کریں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کن کلمات کے ذریعے ؟ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے وہ ( کلمات ) آپ کے سامنے بیان کیے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم انہیں دم کر دیا کرو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8437
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (333/3)»
حدیث نمبر: 8438
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : ¤ كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا اشْتَكَى رَقَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكُ ، مِنْ كُلِّ دَاءٍ يَشْفِيكُ ، مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ ذِي عَيْنٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوئے ، تو سیدنا جبرائیل نے آپ کو دم کرتے ہوئے یہ پڑھا : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، میں آپ کو دم کرتا ہوں ، جو ہر بیماری کے لئے ہے ، کہ وہ آپ کو شفاء دے اور حسد کرنے والے کے شر سے ، جب وہ حسد کرے ، اور ہر نظر لگانے والے ( کی نظر ) کے شر سے ( آپ کو محفوظ رکھے ) “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8438
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 8439
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعُودُهُ ، وَبِهِ مِنَ الْوَجَعِ مَا يَعْلَمُهُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - شِدَّةً ، ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْعَشِيِّ وَقَدْ بَرِأَ أَحْسَنَ بَرْءٍ ، فَقُلْتُ لَهُ : دَخَلْتُ عَلَيْكَ غَدْوَةً وَبِكَ مِنَ الْوَجَعِ مَا يَعْلَمُ اللَّهُ شِدَّةً ، وَدَخَلْتُ عَلَيْكَ الْعَشِيَّةَ وَقَدْ بَرِأْتَ ؟ فَقَالَ : ¤ " يَا ابْنَ الصَّامِتِ ، إِنَّ جِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَقَانِي بِرُقْيَةٍ بَرِأْتُ أَلَا أُعَلِّمُكَهَا ؟ " قُلْتُ : بَلَى . قَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مَنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ ، مَنْ حَسَدِ كُلِّ حَاسِدٍ وَعَيْنٍ وَسَمِّ اللَّهَ يَشْفِيكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ، آپ کی عیادت کرنے کے لئے حاضر ہوا آپ کو جو تکلیف تھی ، اُس کی شدت اللہ بہتر جانتا ہے ، پھر میں شام کے وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو آپ مکمل طور پر ٹھیک ہو چکے تھے ، میں نے عرض کی : میں صبح آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا تو آپ کو اتنی تکلیف تھی کہ جس کی شدت اللہ جانتا ہے ، اور شام کو میں آپ کے پاس آیا ہوں ، تو آپ ٹھیک ہو چکے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابن صامت ! جبرائیل نے مجھے دم کیا ، جس کی وجہ سے میں ٹھیک ہو گیا ، کیا میں تمہیں ان کلمات کی تعلیم دوں ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( یعنی یہ کلمات پڑھے : ) ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، میں تمہیں دم کرتا ہوں ، جو اس چیز کے حوالے سے ہے ، جو تمہیں اذیت دے اور ہر حسد کرنے والے کے حسد کے لئے ، اور ہر نظر کے لئے “ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) اور تم اللہ کا نام لو ( یا بسم اللہ پڑھ لو ! ) وہ تمہیں شفاء دے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان ہے ، جو اہل شام سے تعلق رکھنے والا فرد ہے کسی نے اسے ضعیف قرار نہیں دیا ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8439
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (323/5)»
حدیث نمبر: 8440
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " هَذِهِ الْكَلِمَاتُ دَوَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ : أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ ، وَأَسْمَائِهِ كُلِّهَا عَامَّةً ، مِنْ شَرِّ السَّامَّةِ وَالْهَامَّةِ ، وَشَرِّ الْعَيْنِ اللَّامَّةِ ، وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ، وَمِنْ شَرِّ أَبِي قِتْرَةَ وَمَا وَلَدَ ، ثَلَاثَةٌ وَثَلَاثُونَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ أَتَوْا رَبَّهُمْ ، فَقَالُوا : وَصَبٌ وَصَبٌ مِنْ أَرْضِنَا ، فَقَالَ : خُذُوا مِنْ أَرْضِكُمْ ، فَامْسَحُوا بِوَصِيبِكُمْ رُقْيَةَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَنْ أَخَذَ عَلَيْهَا صِفْدًا أَوْ كَتَمَهَا أَحَدًا فَلَا يُفْلِحُ أَبَدًا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَهُوَ الَّذِي زَادَ : " بِأَرْضِنَا " وَقَالَ فِيهِ : " خُذُوا تُرْبَةً مِنْ أَرْضِكُمْ " وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ . وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ” یہ کلمات ہر بیماری کے لئے دواء ہیں : ” میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں ، اور اس کے تمام اسماء کی عمومی پناہ مانگتا ہوں ، سامہ اور ہامہ سے اور حسد کرنے والے کے شر سے ، جب وہ حسد کرے اور تنگی کے باپ سے اور جس کو اس نے جنم دیا ہے ، اُس کے شر سے “ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) تو تینتیس فرشتے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہوتے ہیں اور عرض کرتے ہیں : ہماری زمین کی طرف سے بیماری ہے بیماری ہے ، تو پروردگار فرماتا ہے : تم اپنی زمین سے حاصل کرو اور اپنے بیمار پر ہاتھ پھیرو ! یہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دم ہے ، جو شخص اس کو بند کرے ، یا اسے کسی سے چھپائے ، وہ کبھی کامیاب نہیں ہو گا“ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” اور ہماری زمین میں سے “ اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” تم اپنی زمین کی مٹی حاصل کرو “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ باقی روایت حسب سابق ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ مدلس ہے ، امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8440
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار في المسند (3057) اخرجه ابو يعلى فى المسند (2417)»
حدیث نمبر: 8441
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ : مَرِضْتُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعُوذُنِي ، فَعَوَّذَنِي يَوْمًا ، فَقَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، أُعِيذُكَ بِاللَّهِ الْأَحَدِ الصَّمَدِ ، الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ ، مِنْ شَرٍّ مَا تَجِدُ " . فَلَمَّا اسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَائِمًا قَالَ : " يَا عُثْمَانُ تَعَوَّذْ بِهَا ، فَمَا تَعَوَّذْتُمْ بِمِثْلِهَا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ عَنْ شَيْخِهِ مُوسَى بْنِ حَيَّانَ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں بیمار ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کرنے کے لئے تشریف لائے ، تو آپ نے مجھے یہ پڑھ کر دم کیا : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان ، نہایت رحم کرنے والا ہے ، ہر اس چیز کے شر سے ، جو تم محسوس کرتے ہو ( یا پاتے ہو ، اس کے حوالے سے ) میں تمہیں ، اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں ، جو بے نیاز ہے ، یکتا ہے ، جس نے کسی کو جنم نہیں دیا اور اسے جنم نہیں دیا گیا ، اور کوئی اس کا ہمسر نہیں ہے “ ۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : اے عثمان ! تم اس کے ذریعے پناہ مانگو ! تم اس کی مانند ( کسی اور کلمے ) کے ذریعے پناہ نہیں مانگو گے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے معجم کبیر میں اپنے استاد موسیٰ بن حیان سے نقل کی ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8441
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 8442
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دم ، صرف نظر لگنے پر ، یا ڈنگ مارے جانے پر ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8442
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3056)»
حدیث نمبر: 8443
وَعَنْ مَيْمُونَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَخَّصَ فِي الرُّقْيَةِ مِنْ كُلِّ ذِي حُمَةٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر زہریلے جانور کے ( ڈنک مارنے ) پر دم کرنے کی رخصت دی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا شخص ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8443
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1054)»
حدیث نمبر: 8444
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : كُنْتُ أَرَقِي مِنْ حُمَةِ الْعَيْنِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَلَمَّا أَسْلَمْتُ ذَكَرْتُهَا لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " اعْرِضْهَا عَلَيَّ " ، فَعَرَضْتُهَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " ارْقِ بِهَا فَلَا بَأْسَ بِهَا " . وَلَوْلَا ذَلِكَ مَا رَقِيتُ بِهَا إِنْسَانًا أَبَدًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں زمانہ جاہلیت میں نظر لگنے کا دم کیا کرتا تھا ، جب میں نے اسلام قبول کیا ، تو میں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا ، آپ نے فرمایا : اس کے کلمات میرے سامنے پیش کرو ! میں نے وہ پیش کیے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ان کے ذریعے دم کرو ! ان میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اگر یہ نہ ہوتا ، تو میں نے کبھی کسی انسان کو دم نہیں کرنا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8444
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (830)»
حدیث نمبر: 8445
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : لَدَغَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَقْرَبٌ وَهُوَ يُصَلِّي ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْعَقْرَبَ لَا تَدَعُ مُصَلِّيًا وَلَا غَيْرَهُ " ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ وَمِلْحٍ ، فَجَعَلَ يَمْسَحُ عَلَيْهَا وَيَقْرَأُ : " قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ [ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ] وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک بچھو نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈنک مار لیا ، اس وقت آپ نماز پڑھ رہے تھے ، جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ بچھو پر لعنت کرے ! یہ کسی نمازی یا غیر نمازی کو نہیں چھوڑتا ، پھر آپ نے پانی اور نمک منگوایا اور اس جگہ پر ہاتھ پھیرنا شروع کیا اور سورہ الکافرون ، سورہ فلق اور سورہ ناس پڑھنی شروع کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8445
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 8446
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رُقْيَةٌ مِنَ الْحُمَةِ ، فَقَالَ : " اعْرِضُوهَا عَلَيَّ " ، فَعَرَضُوهَا عَلَيْهِ : بِسْمِ اللَّهِ قَرْنِيَّةٌ شَجَّةٌ مِلْحَةُ بَحْرٍ قِفْطًا ، فَقَالَ : " هَذِهِ مَوَاثِيقُ أَخَذَهَا سُلَيْمَانُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْهَوَامِّ ، لَا أَرَى بِهَا بَأْسًا " قَالَ : فَلُدِغَ رَجُلٌ وَهُوَ مَعَ عَلْقَمَةَ ، فَرَقَاهُ بِهَا ، فَكَأَنَّمَا نَشِطَ مِنْ عِقَالٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ڈنک کے ایک دم کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا : اس کے کلمات میرے سامنے پیش کرو لوگوں نے اس کے کلمات آپ کے سامنے پیش کیے ، جو یہ تھے : «بِسْمِ اللَّهِ قَرْنِيَّةٌ شَجَةٌ مِلْحَةُ بَحْرٍ قِفْطا» تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ وہ پیمان ہے ، جو سیدنا سلیمان علیہ السلام نے زہریلے جانوروں سے لیا تھا ، میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا ۔
راوی کہتے ہیں : ایک مرتبہ ایک شخص علقمہ کے ساتھ تھا ، اسے کسی نے ڈنک مار لیا ، تو انہوں نے ان کلمات کے ذریعے اسے دم کیا ، تو وہ شخص یوں ٹھیک ہو گیا ، جیسے رسیوں سے آزاد کر دیا گیا ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8446
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10050)»
حدیث نمبر: 8447
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ : عَرَضْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رُقْيَةً مِنَ الْحُمَةِ فَأَذِنَ لَنَا فِيهَا وَقَالَ : " إِنَّمَا هِيَ مَوَاثِيقُ " . وَالرُّقْيَةُ : بِسْمِ اللَّهِ شَجَّةٌ قَرْنِيَّةٌ مِلْحَةُ بَحْرٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ڈنک کا دم پیش کیا ، تو آپ نے ہمیں اس کے بارے میں اجازت دی اور فرمایا : یہ پیمان ہے ، دم کے الفاظ یہ ہیں : «بِسْمِ اللَّهِ شَجَةٌ قَرْنِيَّةٌ مِلْحَةُ بَحْرٍ»
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8447
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 8448
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ : عَمْرُو بْنُ حَنَّةَ ، وَكَانَ يَرْقِي مِنَ الْحَيَّةِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ نَهَيْتَ عَنِ الرُّقَى ، وَأَنَا أَرْقِي مِنَ الْحَيَّةِ ، قَالَ : " قُصَّهَا عَلَيَّ " . فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ فَقَالَ : " لَا بَأْسَ بِهَذِهِ ، هَذِهِ مَوَاثِيقُ " . ¤ قَالَ : وَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَكَانَ يَرْقِي مِنَ الْعَقْرَبِ ، فَقَالَ : " مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَفْعَلْ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، خَلَا قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ ، وَالثَّوْرِيُّ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص جس کا نام عمرو بن حنہ تھا ، اور وہ سانپ کے ڈسنے کا دم کیا کرتا تھا ، وہ آیا ، اور اس نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! آپ نے دم کرنے سے منع کر دیا ہے ، اور میں سانپ کے ڈسنے کا دم کرتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کے کلمات مجھے سناؤ ، اس نے آپ کے سامنے وہ کلمات بیان کیے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان میں کوئی حرج نہیں ہے ، یہ مواثیق ہیں ۔ راوی کہتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آپ کے پاس آیا ، وہ بچھو کا دم کیا کرتا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص یہ استطاعت رکھتا ہو کہ وہ اپنے بھائی کو کوئی نفع پہنچائے ، تو اسے ایسا کر لینا چاہیے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف قیس بن ربیع کا معاملہ مختلف ہے ، شعبہ اور ثوری نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8448
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (1914 و 1913) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (37/17) اخرجه احمد في المسند (302/3)»
حدیث نمبر: 8449
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ رَأَى فِي عُنُقِ امْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ سَيْرًا فِيهِ تَمَائِمُ ، فَمَدَّ يَدَهُ مَدًّا شَدِيدًا ، حَتَّى قَطَعَ السَّيْرَ وَقَالَ : " لَوْ أَنَّ إِحْدَاكُنَّ تَدْعُو بِمَاءٍ فَتَنْضَحُهُ فِي رَأْسِهَا وَوَجْهِهَا ثُمَّ تَقُولُ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ثُمَّ تَقْرَأُ : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ، وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ، وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ نَفَعَهَا ذَلِكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي أَثْنَاءِ حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے اہل خانہ میں سے ایک خاتون کی گردن میں ، دھاگہ دیکھا ، جس میں تعویذ تھے ، تو انہوں نے اپنا ہاتھ سختی سے بڑھایا اور اس کو توڑ دیا ، انہوں نے فرمایا : اگر تم عورتوں میں سے کوئی ایک پانی منگوا کر اسے اپنے سر اور چہرے پر چھڑکے اور اس کے بعد بسم اللہ شریف سورۃ اخلاص ، سورہ فلق اور سورہ ناس پڑھ لے تو اگر اللہ نے چاہا ، تو یہ چیز بھی اُسے فائدہ دیدے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، ابوعبیدہ نامی راوی نے اپنے والد ( سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8449
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (8863) اخرجه احمد فى المسند (3615)»
حدیث نمبر: 8450
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ، وَبُرَيْدَةَ قَالَا : اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعُذْرَةَ حَتَّى صَدَّعَتْهُ ، وَرُئِيَ ذَلِكَ عَلَيْهِ ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ : إِنْ رَبَّكَ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ لِأَرْقِيَكَ ، فَحَلَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ ، فَقَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ سُوءٍ يُؤْذِيكَ ، مِنْ شَرِّ عَيْنِ كُلِّ حَاسِدٍ أَرْقِيكَ " . قَالَ : فَرَدَّدَهَا عَلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَبَرِأَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانٍ الْجُعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن سابط رضی اللہ عنہ اور سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گلے میں درد کا شکار ہو گئے ، یہاں تک کہ آپ کو اس کی تکلیف ہونے لگی اور آپ پر اس تکلیف کے آثار نظر آئے ، سیدنا جبرائیل آپ کے پاس آئے ، اور بولے : آپ کے پروردگار نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے ، تاکہ میں آپ کو دم کروں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر کھولا ، سیدنا جبرائیل نے یہ پڑھا : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، میں آپ کو ہر اس برائی کے حوالے سے دم کرتا ہوں ، جو آپ کو اذیت دیتی ہے ، اور ہر حاسد کی آنکھ کے شر سے آپ کو دم کرتا ہوں “ انہوں نے یہ کلمات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تندرست ہو گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابان جعفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8450
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 8451
وَعَنْ حَفْصَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا امْرَأَةٌ يُقَالُ لَهَا : الشِّفَاءُ ، تَرْقِي مِنَ النَّمْلَةِ ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَلِّمِيهَا حَفْصَةَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے ، ان کے پاس ایک خاتون موجود تھی ، جس کا نام ” شفاء “ تھا وہ ” نملہ “ کا دم کیا کرتی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس دم کے کلمات حفصہ کو سکھا دو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8451
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (21723) اخرجه احمد فى المسند (286/6)»
حدیث نمبر: 8452
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدَنَا صَبِيٌّ يَشْتَكِي فَقَالَ : " مَا لَهُ ؟ " فَقُلْنَا : إِنَّمَا بِهِ الْعَيْنُ ، فَقَالَ : " أَلَا تَسْتَرْقُونَ لَهُ مِنَ الْعَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ سَهْلِ بْنِ مَوْدُودٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے ، ہمارے پاس ایک بچہ موجود تھا ، جسے درد ہو رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اسے کیا ہوا ہے ؟ ہم نے عرض کی : اسے نظر لگ گئی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ اسے نظر لگنے کا دم کیوں نہیں کرتے ہو ؟
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے اپنے استاد سہل بن مودود کے حوالے سے اسے نقل کیا ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8452
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «(480) اخرجه ابو يعلى فى المسند (6879)»
حدیث نمبر: 8453
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ قَالَ : انْصَبَّ عَلَى يَدِي شَيْءٌ مِنْ قِدْرٍ ، فَذَهَبَتْ بِي أُمِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي مَكَانٍ قَالَ : فَقَالَ كَلَامًا فِيهِ : " أَذْهَبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ " أَحْسَبُهُ قَالَ : " وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي " قَالَ : وَكَانَ يَتْفُلُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہنڈیا میں سے کوئی چیز میرے ہاتھ پر گر گئی میری والدہ مجھے ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جگہ پر تشریف فرما تھے آپ نے کچھ پڑھا جس میں یہ کلمات تھے : ” اے لوگوں کے پروردگار ! تو تکلیف کو رخصت کر دے “ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے : روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ” تو شفاء دیدے ، تو ہی شفاء دینے والا ہے “ ۔ راوی کہتے ہیں : ساتھ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لعاب ڈال رہے تھے ( یا پھونک مار رہے تھے ) ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8453
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (418/3)»
حدیث نمبر: 8454
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ قَالَ : دُنِّيتُ إِلَى قِدْرٍ وَهِيَ تَغْلِي ، فَأَدْخَلْتُ يَدِي فِيهَا فَاحْتَرَقَتْ ، أَوْ قَالَ : فَوَرِمَتْ فَذَهَبَتْ بِي أُمِّي إِلَى رَجُلٍ بِالْبَطْحَاءِ ، فَقَالَ شَيْئًا وَنَفَثَ ، فَلَمَّا كَانَ فِي إِمْرَةِ عُثْمَانَ قُلْتُ لِأُمِّي : مَنْ كَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ ؟ قَالَتْ : رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهَا قَالَتْ : يَا مُحَمَّدُ احْتَرَقَتْ يَدُ مُحَمَّدٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ایک ہنڈیا کے قریب آ گیا جو کھول رہی تھی میں نے اپنا ہاتھ اس میں ڈال دیا تو وہ ہاتھ جل گیا راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : تو اسے دورم آ گیا میری والدہ مجھے لے کر ایک شخص کے پاس گئیں جو بطحاء میں موجود تھا اس نے کچھ پڑھا اور ساتھ پھونک ماری جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا عہد خلافت آیا تو میں نے اپنی والدہ سے دریافت کیا : وہ صاحب کون تھے ؟ انہوں نے بتایا : وہ اللہ کے رسول تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ( میرے بیٹے ) محمد کا ہاتھ جل گیا ہے “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8454
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (436/19) اخرجه احمد فى المسند (418/3)»
حدیث نمبر: 8455
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدِهِ : فَانْطَلَقَتْ بِي أُمِّي إِلَى رَجُلٍ جَالِسٍ فِي الْجَبَّانَةِ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ : " يَا لَبَّيْكِ وَسَعْدَيْكِ " . ثُمَّ أَدْنَتْنِي مِنْهُ فَجَعَلَ يَنْفُثُ وَيَتَكَلَّمُ بِكَلَامٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ ، فَسَأَلْتُ أُمِّي بَعْدَ ذَلِكَ : مَا كَانَ يَقُولُ ؟ قَالَتْ : كَانَ يَقُولُ : " أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي وَلَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ " . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَرِجَالُ هَذِهِ الطَّرِيقِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
” میری والدہ مجھے لے کر ایک صاحب کے پاس گئیں ، جو ایک قبرستان کے پاس تشریف فرماتے تھے ، میری والدہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں متوجہ ہوں ، پھر میری والدہ نے مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دم کرنا شروع کیا اور کچھ کلام پڑھنا شروع کیا ، مجھے نہیں معلوم کہ وہ کیا تھا ؟ بعد میں ، میں نے اپنی والدہ سے معلوم کیا کہ وہ کیا کلمات تھے ، تو انہوں نے بتایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پڑھا تھا : ” اے لوگوں کے پروردگار ! تو تکلیف کو رخصت کر دے ، تو شفاء عطا کر دے ، تو شفاء عطا کرنے والا ہے ، شفاء عطا کرنے والا صرف ، تو ہی ہے “ ۔ امام أحمد کے رجال اور اس طریق کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8455
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (418/3)»
حدیث نمبر: 8456
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ ، عَنْ أُمِّ جَمِيلٍ بِنْتِ الْمُجَلَّلِ - يَعْنِي أُمَّهُ - قَالَتْ : أَقْبَلْتُ بِكَ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ حَتَّى إِذَا كُنْتُ مِنَ الْمَدِينَةِ عَنْ لَيْلَةٍ أَوْ لَيْلَتَيْنِ طَبَخْتُ لَكَ طَبِيخًا ، فَفَنِيَ الْحَطَبُ فَخَرَجْتُ أَطْلُبُهُ ، فَتَنَاوَلْتَ الْقِدْرَ فَانْكَفَأَتْ عَلَى ذِرَاعِكَ فَأَتَيْتُ بِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاطِبٍ ، فَتَفَلَ فِي فِيكَ ، وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِكَ ، وَدَعَا لَكَ ، وَجَعَلَ يَتْفُلُ عَلَى يَدِكَ وَهُوَ يَقُولُ : " أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا " . ¤ فَقَالَتْ : فَمَا قُمْتُ بِكَ مِنْ عِنْدِهِ حَتَّى بَرِأَتْ يَدُكَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاطِبٍ ، وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ سُمِّيَ بِكَ . ¤ وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ الْحَاطِبِيُّ ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ ، سیدہ ام جمیل بنت مجلل رضی اللہ عنہا ، یعنی جو اُن کی والدہ ہیں ، ان کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : وہ خاتون کہتی ہیں : میں تمہیں لے کے حبشہ کی سرزمین سے آئی ، جب میں مدینہ منورہ سے ایک یا دو راتوں کے فاصلے پر موجود تھی ، تو میں نے تمہارے لئے ہنڈیا پکائی لکڑیاں ختم ہو گئیں میں لکڑیوں کی تلاش میں نکلی ، تم ہنڈیا کے پاس آئے ، اور تم نے اسے اپنے بازوؤں پر گرا لیا ، میں تمہیں لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، یہ محمد بن حاطب ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے منہ میں لعاب دہن ڈالا اور تمہارے سر پر ہاتھ پھیرا اور تمہارے لئے دعا کی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے ہاتھ پر دم کرنا شروع کیا ، آپ یہ پڑھ رہے تھے : ” اے لوگوں کے پرودگار ! تکلیف کو رخصت کر دے ، تو شفاء عطا کر دے ، تو شفاء عطا کرنے والا ہے ، شفاء صرف تیری عطا کردہ شفاء ہے ، ایسی شفاء عطا کر دے ، جو بیماری کو نہ رہنے دے “ ۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے تمہیں لے کر ، میں ابھی اٹھی نہیں تھی کہ تمہارا ہاتھ ٹھیک ہو گیا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” یا رسول اللہ ! یہ محمد بن حاطب ہے ، یہ وہ پہلا بچہ ہے ، جس کا نام آپ کے نام پر رکھا گیا ہے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عثمان حاطبی ہے ، جسے ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8456
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (363/24) اخرجه احمد فى المسند (418/3)»
حدیث نمبر: 8457
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ قَالَ : وَقَعَتِ الْقِدْرُ عَلَى يَدِي فَاحْتَرَقَتْ يَدِي فَانْطَلَقَ بِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ يَتْفُلُ عَلَيْهَا وَيَقُولُ : " أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ " . أَحْسَبُهُ قَالَ : " وَاشْفِ إِنَّكَ أَنْتَ الشَّافِي " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے ہاتھ پر ہنڈیا گر گئی ، میرا ہاتھ جل گیا ، میرے والد مجھے ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ پر دم کرنا شروع کیا اور یہ پڑھنا شروع کیا : ” اے لوگوں کے پروردگار ! تو تکلیف کو رخصت کر دے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ راوی کہتے ہیں : روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ” تو شفاء عطا کر دے ! بے شک ، تو ہی شفاء عطا کرنے والا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8457
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (259/4)»
حدیث نمبر: 8458
وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ : عَوَّذَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ تَفْلًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْبَكْرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ فاتحہ پڑھ کر مجھے دم کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن یزید بکری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8458
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6693)»
حدیث نمبر: 8459
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبِ الْهِلَالِيِّ ، وَهُوَ ابْنُ أَخِي مَيْمُونَةَ قَالَ : قَالَتْ لِي مَيْمُونَةُ : يَا ابْنَ أَخِي تَعَالَ أَرْقِيكَ بِرُقْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : " بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ ، وَاللَّهُ يَشْفِيكَ مِنْ كُلِّ دَاءٍ فِيكَ ، أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ ، اشْفِ لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَعَلَى كُلِّ حَالٍ إِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، وَسَنَدُ الْأَوْسَطِ أَجْوَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن سائب ہلالی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے کہا: آؤ ! میرے بھتیجے ! تاکہ میں تمہیں وہ دم کروں ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دم کیا کرتے تھے ، پھر سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے یہ پڑھا : اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، میں تمہیں دم کرتی ہوں ، اللہ تعالیٰ تمہیں ہر بیماری سے شفاء دے جو تمہارے اندر موجود ہے ، اے لوگوں کے پروردگار ! تو تکلیف کو رخصت کر دے ، تو شفاء عطا کر دے ، شفاء عطا کرنے والا صرف ، توہی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے اس کی توثیق کی گئی ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، ہر حالت میں اس کی سند حسن ہے ، اور معجم اوسط کی سند زیادہ عمدہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8459
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (438/23) اخرجه احمد فى المسند (322/6)»
حدیث نمبر: 8460
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعَوِّذُ الْحَسْنَ وَالْحُسَيْنَ : " أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مَنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمَنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ وَاقَدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حسن اور حسین کو یہ پڑھ کر دم کرتے تھے : ” میں تم دونوں کو ، اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ میں دیتا ہوں ، ہر شیطان اور ہامہ ( نحوست ) کے شر سے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن واقد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8460
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 8461
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ مَرَّ بِهِ الْحُسَيْنُ وَالْحَسَنُ وَهُمَا صَبِيَّانِ ، فَقَالَ : " هَاتُوا ابْنِيَّ أُعَوِّذُهُمَا بِمَا عَوَّذَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ ابْنَيْهِ إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ ، قَالَ : أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مَنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ ، وَمَنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ ذَكْوَانَ ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ گزرے ، جو دونوں بچے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے بچوں کی طرف چلو ! تاکہ میں انہیں وہ دم کر دوں جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام اپنے دونوں بیٹوں سیدنا اسماعیل اور سیدنا اسحاق کو کیا کرتے تھے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات پڑھے : ” میں تم دونوں کو اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ میں دیتا ہوں ، ہر لگنے والی نظر ، ہر شیطان اور ہامہ ( منحوس چیز ) سے “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ذکوان ہے ، جسے شعبہ اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8461
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3202) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9984)»
حدیث نمبر: 8462
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعَوِّذُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ : " أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَذَرَأَ وَبَرَأَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ هَارُونَ ، وَابْنُ رَوْحٍ فَإِنْ كَانَ هُوَ أَحْمَدَ بْنَ هَارُونَ الْبَلَدِيَّ أَوْ أَحْمَدَ بْنَ هَارُونَ الْمِصِّيصِيَّ فَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَهُمَا فَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ خَلَا مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى فَإِنَّهُ سَيِّئُ الْحِفْظِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو یہ پڑھ کر دم کیا کرتے تھے : ” میں تم دونوں کو اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ میں دیتا ہوں ، ہر اس چیز کے شر سے ، جسے اُس نے پیدا کیا ہے ، بنایا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن ہارون ہے ، اور ایک راوی ابن نوح ہے اگر تو یہ راوی أحمد بن ہارون بلدی ہے یا أحمد بن ہارون مصیصی ہے ، تو پھر یہ ضعیف ہے ، اور اگر یہ اُن دونوں کے علاوہ کوئی اور ہے ، تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، صرف محمد بن عبدالرحمن بن ابولیلی ہے کا معاملہ مختلف ہے ، کیونکہ وہ خراب حافظے کا مالک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8462
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 8463
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ ، وَخَرَجَ مَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ ، فَلَمَّا كَانَا بِالْحَرَّةِ نَهَشَتْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَهْلٍ حَيَّةٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ادْعُوَا لِي عَمْرَو بْنَ حَزْمٍ " فَدُعِيَ فَعَرَضَ رُقْيَتَهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " لَا بَأْسَ بِهَا ارْقِهِ " فَوَضَعَ ابْنُ حَزْمٍ يَدَهُ عَلَيْهِ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هُوَ يَمُوتُ أَوْ قَدْ مَاتَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ارْقِهِ وَإِنْ كَانَ قَدْ يَمُوتُ - أَوْ قَدْ مَاتَ - " فَرَقَاهُ ، فَصَحَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَانْطَلَقَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُكَيْثٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مَا بَيْنَ ثِقَةٍ وَمَسْتُورٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن ابوحثمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے ، آپ کے ساتھ سیدنا عبدالرحمن بن سہل رضی اللہ عنہ بھی تھے ، جب یہ دونوں حضرات پتھریلی زمین پر پہنچے تو عبدالرحمن بن سہل رضی اللہ عنہ کو ایک سانپ نے ڈس لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عمرو بن حزم کو میرے پاس بلا کے لاؤ ! انہوں نے اپنے دم کے کلمات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، تم اس کو دم کرو ! تو ابن حزم نے اپنا ہاتھ اُن پر رکھا اور بولے : یا رسول اللہ ! یہ مرنے والا ہے ، یا یہ مر چکا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے دم کرو ! اگرچہ یہ مر چکا ہے ، یا اگرچہ یہ مرنے والا ہے ۔ انہوں نے ان صاحب کو دم کیا ، تو سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ ٹھیک ہو گئے ، اور روانہ ہو گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بشر بن عبداللہ بن مکیث ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہونے اور مستور ہونے کے درمیان کے ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8463
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 8464
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى ابْنِ نُعَيْمَانَ فَقَالَ : " أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ إِلَهَ النَّاسِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رفع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابن نعیمان رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئے ، اور یہ دعا کی : ” اے لوگوں کے پروردگار ! لوگوں کے معبود ! تو تکلیف کو رخصت کر دے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8464
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4401)»
حدیث نمبر: 8465
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُوَعَكُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُعَلِّمُكَ رُقْيَةً رَقَانِي بِهَا جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - " قُلْتُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ وَاللَّهُ يَشْفِيكَ مِنْ كُلِّ دَاءٍ يَعْنِيكَ ، خُذْهَا فَلْيَهْنِيكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِيمَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى فِي الْأَذْكَارِ وَفِي الِاسْتِعَاذَةِ أَيْضًا ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، آپ کو تکلیف تھی ، آپ نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسے دم کی تعلیم نہ دوں ؟ جو جبرائیل نے مجھے کیا تھا ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( اس کے کلمات ہیں : ) ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، میں تمہیں دم کرتا ہوں ، اللہ تعالیٰ تمہیں ہر بیماری سے شفاء عطا کرے ، جو تمہیں لاحق ہے ( یا جس کو تم ٹھیک کروانا چاہتے ہو ) “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) تم اسے حاصل کرو ! تمہیں اس ( کا علم ہونے ) کی مبارک ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد مقدام بن داؤد سے نقل کی ہے ۔ اور وہ ضعیف ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی دیگر احادیث آگے چل کے آئیں گی ، جو ” اذکار “ سے متعلق باب میں اور ” پناہ مانگنے “ سے متعلق باب میں آئیں گی کہ صبح شام کے وقت کیا پڑھنا چاہیے ؟ اگر اللہ نے چاہا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8465
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف