حدیث نمبر: 8456
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ ، عَنْ أُمِّ جَمِيلٍ بِنْتِ الْمُجَلَّلِ - يَعْنِي أُمَّهُ - قَالَتْ : أَقْبَلْتُ بِكَ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ حَتَّى إِذَا كُنْتُ مِنَ الْمَدِينَةِ عَنْ لَيْلَةٍ أَوْ لَيْلَتَيْنِ طَبَخْتُ لَكَ طَبِيخًا ، فَفَنِيَ الْحَطَبُ فَخَرَجْتُ أَطْلُبُهُ ، فَتَنَاوَلْتَ الْقِدْرَ فَانْكَفَأَتْ عَلَى ذِرَاعِكَ فَأَتَيْتُ بِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاطِبٍ ، فَتَفَلَ فِي فِيكَ ، وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِكَ ، وَدَعَا لَكَ ، وَجَعَلَ يَتْفُلُ عَلَى يَدِكَ وَهُوَ يَقُولُ : " أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا " . ¤ فَقَالَتْ : فَمَا قُمْتُ بِكَ مِنْ عِنْدِهِ حَتَّى بَرِأَتْ يَدُكَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاطِبٍ ، وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ سُمِّيَ بِكَ . ¤ وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ الْحَاطِبِيُّ ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ ، سیدہ ام جمیل بنت مجلل رضی اللہ عنہا ، یعنی جو اُن کی والدہ ہیں ، ان کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : وہ خاتون کہتی ہیں : میں تمہیں لے کے حبشہ کی سرزمین سے آئی ، جب میں مدینہ منورہ سے ایک یا دو راتوں کے فاصلے پر موجود تھی ، تو میں نے تمہارے لئے ہنڈیا پکائی لکڑیاں ختم ہو گئیں میں لکڑیوں کی تلاش میں نکلی ، تم ہنڈیا کے پاس آئے ، اور تم نے اسے اپنے بازوؤں پر گرا لیا ، میں تمہیں لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، یہ محمد بن حاطب ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے منہ میں لعاب دہن ڈالا اور تمہارے سر پر ہاتھ پھیرا اور تمہارے لئے دعا کی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے ہاتھ پر دم کرنا شروع کیا ، آپ یہ پڑھ رہے تھے : ” اے لوگوں کے پرودگار ! تکلیف کو رخصت کر دے ، تو شفاء عطا کر دے ، تو شفاء عطا کرنے والا ہے ، شفاء صرف تیری عطا کردہ شفاء ہے ، ایسی شفاء عطا کر دے ، جو بیماری کو نہ رہنے دے “ ۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے تمہیں لے کر ، میں ابھی اٹھی نہیں تھی کہ تمہارا ہاتھ ٹھیک ہو گیا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” یا رسول اللہ ! یہ محمد بن حاطب ہے ، یہ وہ پہلا بچہ ہے ، جس کا نام آپ کے نام پر رکھا گیا ہے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عثمان حاطبی ہے ، جسے ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8456
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (363/24) اخرجه احمد فى المسند (418/3)»