حدیث نمبر: 8453
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ قَالَ : انْصَبَّ عَلَى يَدِي شَيْءٌ مِنْ قِدْرٍ ، فَذَهَبَتْ بِي أُمِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي مَكَانٍ قَالَ : فَقَالَ كَلَامًا فِيهِ : " أَذْهَبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ " أَحْسَبُهُ قَالَ : " وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي " قَالَ : وَكَانَ يَتْفُلُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہنڈیا میں سے کوئی چیز میرے ہاتھ پر گر گئی میری والدہ مجھے ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جگہ پر تشریف فرما تھے آپ نے کچھ پڑھا جس میں یہ کلمات تھے : ” اے لوگوں کے پروردگار ! تو تکلیف کو رخصت کر دے “ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے : روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ” تو شفاء دیدے ، تو ہی شفاء دینے والا ہے “ ۔ راوی کہتے ہیں : ساتھ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لعاب ڈال رہے تھے ( یا پھونک مار رہے تھے ) ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8453
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (418/3)»