حدیث نمبر: 8452
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدَنَا صَبِيٌّ يَشْتَكِي فَقَالَ : " مَا لَهُ ؟ " فَقُلْنَا : إِنَّمَا بِهِ الْعَيْنُ ، فَقَالَ : " أَلَا تَسْتَرْقُونَ لَهُ مِنَ الْعَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ سَهْلِ بْنِ مَوْدُودٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے ، ہمارے پاس ایک بچہ موجود تھا ، جسے درد ہو رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اسے کیا ہوا ہے ؟ ہم نے عرض کی : اسے نظر لگ گئی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ اسے نظر لگنے کا دم کیوں نہیں کرتے ہو ؟
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے اپنے استاد سہل بن مودود کے حوالے سے اسے نقل کیا ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8452
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «(480) اخرجه ابو يعلى فى المسند (6879)»