مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطب— طب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّقَى لِلْعَيْنِ وَالْمَرَضِ وَغَيْرِ ذَلِكَ باب: نظر لگنے ، بیماری ، یا س کے علاوہ کسی چیز کے لئے دم کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " هَذِهِ الْكَلِمَاتُ دَوَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ : أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ ، وَأَسْمَائِهِ كُلِّهَا عَامَّةً ، مِنْ شَرِّ السَّامَّةِ وَالْهَامَّةِ ، وَشَرِّ الْعَيْنِ اللَّامَّةِ ، وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ، وَمِنْ شَرِّ أَبِي قِتْرَةَ وَمَا وَلَدَ ، ثَلَاثَةٌ وَثَلَاثُونَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ أَتَوْا رَبَّهُمْ ، فَقَالُوا : وَصَبٌ وَصَبٌ مِنْ أَرْضِنَا ، فَقَالَ : خُذُوا مِنْ أَرْضِكُمْ ، فَامْسَحُوا بِوَصِيبِكُمْ رُقْيَةَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَنْ أَخَذَ عَلَيْهَا صِفْدًا أَوْ كَتَمَهَا أَحَدًا فَلَا يُفْلِحُ أَبَدًا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَهُوَ الَّذِي زَادَ : " بِأَرْضِنَا " وَقَالَ فِيهِ : " خُذُوا تُرْبَةً مِنْ أَرْضِكُمْ " وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ . وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ” یہ کلمات ہر بیماری کے لئے دواء ہیں : ” میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں ، اور اس کے تمام اسماء کی عمومی پناہ مانگتا ہوں ، سامہ اور ہامہ سے اور حسد کرنے والے کے شر سے ، جب وہ حسد کرے اور تنگی کے باپ سے اور جس کو اس نے جنم دیا ہے ، اُس کے شر سے “ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) تو تینتیس فرشتے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہوتے ہیں اور عرض کرتے ہیں : ہماری زمین کی طرف سے بیماری ہے بیماری ہے ، تو پروردگار فرماتا ہے : تم اپنی زمین سے حاصل کرو اور اپنے بیمار پر ہاتھ پھیرو ! یہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دم ہے ، جو شخص اس کو بند کرے ، یا اسے کسی سے چھپائے ، وہ کبھی کامیاب نہیں ہو گا“ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” اور ہماری زمین میں سے “ اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” تم اپنی زمین کی مٹی حاصل کرو “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ باقی روایت حسب سابق ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ مدلس ہے ، امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔