حدیث نمبر: 8441
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ : مَرِضْتُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعُوذُنِي ، فَعَوَّذَنِي يَوْمًا ، فَقَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، أُعِيذُكَ بِاللَّهِ الْأَحَدِ الصَّمَدِ ، الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ ، مِنْ شَرٍّ مَا تَجِدُ " . فَلَمَّا اسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَائِمًا قَالَ : " يَا عُثْمَانُ تَعَوَّذْ بِهَا ، فَمَا تَعَوَّذْتُمْ بِمِثْلِهَا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ عَنْ شَيْخِهِ مُوسَى بْنِ حَيَّانَ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں بیمار ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کرنے کے لئے تشریف لائے ، تو آپ نے مجھے یہ پڑھ کر دم کیا : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان ، نہایت رحم کرنے والا ہے ، ہر اس چیز کے شر سے ، جو تم محسوس کرتے ہو ( یا پاتے ہو ، اس کے حوالے سے ) میں تمہیں ، اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں ، جو بے نیاز ہے ، یکتا ہے ، جس نے کسی کو جنم نہیں دیا اور اسے جنم نہیں دیا گیا ، اور کوئی اس کا ہمسر نہیں ہے “ ۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : اے عثمان ! تم اس کے ذریعے پناہ مانگو ! تم اس کی مانند ( کسی اور کلمے ) کے ذریعے پناہ نہیں مانگو گے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے معجم کبیر میں اپنے استاد موسیٰ بن حیان سے نقل کی ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8441
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف