مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطب— طب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّقَى لِلْعَيْنِ وَالْمَرَضِ وَغَيْرِ ذَلِكَ باب: نظر لگنے ، بیماری ، یا س کے علاوہ کسی چیز کے لئے دم کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعُودُهُ ، وَبِهِ مِنَ الْوَجَعِ مَا يَعْلَمُهُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - شِدَّةً ، ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْعَشِيِّ وَقَدْ بَرِأَ أَحْسَنَ بَرْءٍ ، فَقُلْتُ لَهُ : دَخَلْتُ عَلَيْكَ غَدْوَةً وَبِكَ مِنَ الْوَجَعِ مَا يَعْلَمُ اللَّهُ شِدَّةً ، وَدَخَلْتُ عَلَيْكَ الْعَشِيَّةَ وَقَدْ بَرِأْتَ ؟ فَقَالَ : ¤ " يَا ابْنَ الصَّامِتِ ، إِنَّ جِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَقَانِي بِرُقْيَةٍ بَرِأْتُ أَلَا أُعَلِّمُكَهَا ؟ " قُلْتُ : بَلَى . قَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مَنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ ، مَنْ حَسَدِ كُلِّ حَاسِدٍ وَعَيْنٍ وَسَمِّ اللَّهَ يَشْفِيكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ، آپ کی عیادت کرنے کے لئے حاضر ہوا آپ کو جو تکلیف تھی ، اُس کی شدت اللہ بہتر جانتا ہے ، پھر میں شام کے وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو آپ مکمل طور پر ٹھیک ہو چکے تھے ، میں نے عرض کی : میں صبح آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا تو آپ کو اتنی تکلیف تھی کہ جس کی شدت اللہ جانتا ہے ، اور شام کو میں آپ کے پاس آیا ہوں ، تو آپ ٹھیک ہو چکے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابن صامت ! جبرائیل نے مجھے دم کیا ، جس کی وجہ سے میں ٹھیک ہو گیا ، کیا میں تمہیں ان کلمات کی تعلیم دوں ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( یعنی یہ کلمات پڑھے : ) ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، میں تمہیں دم کرتا ہوں ، جو اس چیز کے حوالے سے ہے ، جو تمہیں اذیت دے اور ہر حسد کرنے والے کے حسد کے لئے ، اور ہر نظر کے لئے “ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) اور تم اللہ کا نام لو ( یا بسم اللہ پڑھ لو ! ) وہ تمہیں شفاء دے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان ہے ، جو اہل شام سے تعلق رکھنے والا فرد ہے کسی نے اسے ضعیف قرار نہیں دیا ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں