حدیث نمبر: 8403
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا فِي عَضُدِهِ حَلْقَةٌ مِنْ صُفْرٍ ، فَقَالَ : مَا هَذِهِ ؟ قَالَ : نُعِتَتْ لِي مِنَ الْوَاهِنَةِ ، قَالَ : أَمَا إِنْ مُتَّ وَهِيَ عَلَيْكَ وُكِلْتَ إِلَيْهَا . ¤ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَطَيَّرَ وَلَا تُطُيِّرَ لَهُ ، أَوْ تَكَهَّنَ أَوْ تُكُهِّنَ لَهُ " أَظُنُّهُ قَالَ : " أَوْ سَحَرَ أَوْ سُحِرَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ الرَّبِيعِ الْعَطَّارُ ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَضَعَّفَهُ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ جس کے بازو میں پیتل کا حلقہ ( یعنی چھلا یا کڑا ) موجود تھا ، انہوں نے دریافت کیا : یہ کس لئے ہے ؟ اس نے بتایا : کمزوری سے بچنے کے لئے مجھے یہ تجویز کیا گیا ہے ۔ انہوں نے فرمایا : اگر تم ایسی حالت میں مر گئے کہ یہ تمہارے جسم پر ہوا ، تو تمہیں اس کے حوالے کر دیا جائے گا ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے ، جو شگون لیتا ہے ، یا جس کے لئے شگون لیا جاتا ہے ، یا جو کہانت کرتا ہے ، یا جس کے لئے کہانت کی جاتی ہے ، ( راوی کہتے ہیں : میرے خیال میں روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ) یا وہ جادو کرتا ہے ، یا اس کے لئے جادو کیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ربیع عطار ہے ، جسے ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور عمرو بن علی نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8403
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (162/18)»