حدیث نمبر: 8404
عَنْ أَبِي حَسَّانَ قَالَ : دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ عَلَى عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - فَأَخْبَرَهَا أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الطِّيَرَةُ فِي الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ " فَغَضِبَتْ وَطَارَتْ شَقَّةٌ مِنْهَا فِي السَّمَاءِ ، وَشَقَّةٌ فِي الْأَرْضِ ، وَقَالَتْ : وَالَّذِي أَنْزَلَ الْقُرْآنَ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا قَالَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَطُّ ، إِنَّمَا قَالَ : " كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَتَطَيَّرُونَ مِنْ ذَلِكَ " . ¤
محمد محی الدین

ابوحسان بیان کرتے ہیں : بنو عامر سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان کر رہے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بدشگونی ( یا نحوست ) گھر میں ہوتی ہے ، یا عورت میں ہوتی ہے ، یا گھوڑے میں ہوتی ہے “ ۔ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا غصے میں آ گئیں ، اور شدید غصے میں آ گئیں ، انہوں نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کو نازل کیا ہے ، یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ارشاد نہیں فرمائی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” زمانہ جاہلیت کے لوگ اس حوالے سے شگون لیا کرتے تھے “ ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8404
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (1501/6)»