حدیث نمبر: 8398
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " مَنْ تَعَلَّقَ تَمِيمَةً فَلَا أَتَمَّ اللَّهُ لَهُ ، وَمَنْ يُعَلِّقْ وَدَعَةً فَلَا وَدَعَ اللَّهُ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمْ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص تعویذ لٹکاتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کا ( مقصد ) اس کے لئے پورا نہ کرے ، اور جو شخص ” ودعہ “ ( تعویذ ہی کی ایک قسم ) لٹکاتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس ( کے مقصد کو پورا ) نہ کرے “ ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8399
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ أَقْبَلَ إِلَيْهِ رَهْطٌ ، فَبَايَعَ تِسْعَةً وَأَمْسَكَ عَنْ وَاحِدٍ ، فَقِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَايَعْتَ تِسْعَةً وَتَرَكَتْ هَذَا ؟ قَالَ : " إِنْ عَلَيْهِ تَمِيمَةً " فَأَدْخَلَ يَدَهُ فَقَطَعَهَا ، فَبَايَعَهُ وَقَالَ : " مَنْ عَلَّقَ تَمِيمَةً فَقَدْ أَشْرَكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ افراد حاضر ہوئے آپ نے نو افراد سے بیعت لے لی اور ایک سے نہیں لی ، آپ کی خدمت میں عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! آپ نے نو افراد سے بیعت لے لی ہے ، اور اسے چھوڑ دیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کے پاس تعویذ موجود ہے اس شخص نے اپنا ہاتھ اندر داخل کیا اور اسے کاٹ دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بیعت لے لی اور ارشاد فرمایا : ” جو شخص تعویذ لٹکاتا ہے ، وہ شرک کا مرتکب ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8400
وَعَنْ عِيسَى قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى أَبِي مَعْبَدٍ نُعُودُهُ ، فَقُلْنَا : أَلَا تُعَلِّقُ شَيْئًا ؟ فَقَالَ : الْمَوْتُ أَقْرَبُ مِنْ ذَلِكَ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " مَنْ عَلَّقَ شَيْئًا وُكِلَ إِلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي تَرْجَمَةِ أَبِي مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ فِي الْكُنَى قَالَ : وَقَدْ قِيلَ : إِنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُكَيْمٍ ، قُلْتُ : فَإِنْ كَانَ هُوَ فَقَدْ ثَبَتَتْ صُحْبَتُهُ بِقَوْلِهِ : سَمِعْتُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عیسیٰ نامی بیان کرتے ہیں : ہم سیدنا ابومعبد رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ان کی عیادت کرنے کے لئے حاضر ہوئے ، ہم نے کہا: آپ کوئی تعویذ تو نہیں لٹکاتے ؟ انہوں نے فرمایا : موت اس سے زیادہ قریب ہے ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص کوئی چیز لٹکاتا ہے ، اسے اس کے سپرد کر دیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ، کنیت سے متعلق باب میں ، سیدنا ابومعبد جہنی رضی اللہ عنہ کے حالات کے ضمن میں نقل کی ہے ، راوی کہتے ہیں : ایک قول کے مطابق ان کا نام سیدنا عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : اگر تو یہ وہی ہیں ، تو پھر ان کا صحابی ہونا ، ان الفاظ سے ثابت ہوتا ہے : ” میں نے سنا “ اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلیٰ ہے ، اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ، کنیت سے متعلق باب میں ، سیدنا ابومعبد جہنی رضی اللہ عنہ کے حالات کے ضمن میں نقل کی ہے ، راوی کہتے ہیں : ایک قول کے مطابق ان کا نام سیدنا عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : اگر تو یہ وہی ہیں ، تو پھر ان کا صحابی ہونا ، ان الفاظ سے ثابت ہوتا ہے : ” میں نے سنا “ اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلیٰ ہے ، اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8401
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " مَا أُبَالِي مَا أَتَيْتُ ، وَلَا مَا ارْتَكَبْتُ ، إِذَا أَنَا شَرِبْتُ تِرْيَاقًا ، أَوْ عَلَّقْتُ تَمِيمَةً ، أَوْ نَطَقْتُ شِعْرًا ، مِنْ قِبَلِ نَفْسِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مُوسَى بْنِ عِيسَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْحِمْصِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ میں نے کیا کیا ہے ، اور کس کام کا ارتکاب کیا ہے ، جبکہ میں نے تریاق پی لیا ہو ، یا تعویذ لٹکا لیا ہو ، یا اپنی طرف سے شعر موزوں کر دیا ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، اپنے استاد موسیٰ بن عیسیٰ بن منذر حمصی کے حوالے سے نقل کی ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، اپنے استاد موسیٰ بن عیسیٰ بن منذر حمصی کے حوالے سے نقل کی ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8402
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبْصَرَ عَلَى عَضُدِ رَجُلٍ حَلْقَةً - أَرَاهُ قَالَ - : مِنْ صُفْرٍ ، قَالَ : ¤ " وَيْحَكَ مَا هَذِهِ ؟ " قَالَ : مِنَ الْوَاهِنَةِ ، قَالَ : أَمَا إِنَّهَا لَا تَزِيدُكُ إِلَّا وَهَنًا ، انْبِذْهَا عَنْكَ ، فَإِنَّكَ لَوْ مُتَّ وَهِيَ عَلَيْكَ مَا أَفْلَحْتَ أَبَدًا " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ : " إِنْ مُتَّ وَهِيَ عَلَيْكَ وُكِلْتَ إِلَيْهَا " . قَالَ : وَفِي رِوَايَةٍ مَوْقُوفَةٍ : انْبِذْهَا عَنْكَ ، فَإِنَّكَ لَوْ مُتَّ وَأَنْتَ تَرَى أَنَّهَا تَنْفَعُكَ لَمُتَّ عَلَى غَيْرِ الْفِطْرَةِ . ¤ وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے بازو پر چھلا دیکھا ، راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ چھلا پیتل کا بنا ہوا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو ، یہ کس لئے ہے ؟ اس نے کہا: یہ کمزوری دور کرنے والا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ تمہاری کمزوری میں اضافہ ہی کرے گا ، اسے تم اپنے آپ سے دور کر دو ! کیونکہ اگر تم ایسی حالت میں مر گئے ، کہ یہ تم پر ہوا ، تو تم کبھی فلاح نہیں پاؤ گے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اگر تم اس حالت میں مر گئے کہ یہ تم پر ہوا ، تو تمہیں اس کے سپرد کر دیا جائے گا “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ایک موقوف روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” تم اسے اپنے آپ سے پرے کر دو ! کیونکہ اگر تم ایسی حالت میں مر گئے کہ تم یہ عقیدہ رکھتے ہوئے کہ یہ تمہیں نفع دے گا ، تو تم فطرت ( یعنی دین اسلام ) کے علاوہ پر مرو گے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے ، اور وہ ثقہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اگر تم اس حالت میں مر گئے کہ یہ تم پر ہوا ، تو تمہیں اس کے سپرد کر دیا جائے گا “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ایک موقوف روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” تم اسے اپنے آپ سے پرے کر دو ! کیونکہ اگر تم ایسی حالت میں مر گئے کہ تم یہ عقیدہ رکھتے ہوئے کہ یہ تمہیں نفع دے گا ، تو تم فطرت ( یعنی دین اسلام ) کے علاوہ پر مرو گے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے ، اور وہ ثقہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8403
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا فِي عَضُدِهِ حَلْقَةٌ مِنْ صُفْرٍ ، فَقَالَ : مَا هَذِهِ ؟ قَالَ : نُعِتَتْ لِي مِنَ الْوَاهِنَةِ ، قَالَ : أَمَا إِنْ مُتَّ وَهِيَ عَلَيْكَ وُكِلْتَ إِلَيْهَا . ¤ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَطَيَّرَ وَلَا تُطُيِّرَ لَهُ ، أَوْ تَكَهَّنَ أَوْ تُكُهِّنَ لَهُ " أَظُنُّهُ قَالَ : " أَوْ سَحَرَ أَوْ سُحِرَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ الرَّبِيعِ الْعَطَّارُ ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَضَعَّفَهُ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ جس کے بازو میں پیتل کا حلقہ ( یعنی چھلا یا کڑا ) موجود تھا ، انہوں نے دریافت کیا : یہ کس لئے ہے ؟ اس نے بتایا : کمزوری سے بچنے کے لئے مجھے یہ تجویز کیا گیا ہے ۔ انہوں نے فرمایا : اگر تم ایسی حالت میں مر گئے کہ یہ تمہارے جسم پر ہوا ، تو تمہیں اس کے حوالے کر دیا جائے گا ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے ، جو شگون لیتا ہے ، یا جس کے لئے شگون لیا جاتا ہے ، یا جو کہانت کرتا ہے ، یا جس کے لئے کہانت کی جاتی ہے ، ( راوی کہتے ہیں : میرے خیال میں روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ) یا وہ جادو کرتا ہے ، یا اس کے لئے جادو کیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ربیع عطار ہے ، جسے ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور عمرو بن علی نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ربیع عطار ہے ، جسے ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور عمرو بن علی نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔