حدیث نمبر: 8402
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبْصَرَ عَلَى عَضُدِ رَجُلٍ حَلْقَةً - أَرَاهُ قَالَ - : مِنْ صُفْرٍ ، قَالَ : ¤ " وَيْحَكَ مَا هَذِهِ ؟ " قَالَ : مِنَ الْوَاهِنَةِ ، قَالَ : أَمَا إِنَّهَا لَا تَزِيدُكُ إِلَّا وَهَنًا ، انْبِذْهَا عَنْكَ ، فَإِنَّكَ لَوْ مُتَّ وَهِيَ عَلَيْكَ مَا أَفْلَحْتَ أَبَدًا " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ : " إِنْ مُتَّ وَهِيَ عَلَيْكَ وُكِلْتَ إِلَيْهَا " . قَالَ : وَفِي رِوَايَةٍ مَوْقُوفَةٍ : انْبِذْهَا عَنْكَ ، فَإِنَّكَ لَوْ مُتَّ وَأَنْتَ تَرَى أَنَّهَا تَنْفَعُكَ لَمُتَّ عَلَى غَيْرِ الْفِطْرَةِ . ¤ وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے بازو پر چھلا دیکھا ، راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ چھلا پیتل کا بنا ہوا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو ، یہ کس لئے ہے ؟ اس نے کہا: یہ کمزوری دور کرنے والا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ تمہاری کمزوری میں اضافہ ہی کرے گا ، اسے تم اپنے آپ سے دور کر دو ! کیونکہ اگر تم ایسی حالت میں مر گئے ، کہ یہ تم پر ہوا ، تو تم کبھی فلاح نہیں پاؤ گے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اگر تم اس حالت میں مر گئے کہ یہ تم پر ہوا ، تو تمہیں اس کے سپرد کر دیا جائے گا “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ایک موقوف روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” تم اسے اپنے آپ سے پرے کر دو ! کیونکہ اگر تم ایسی حالت میں مر گئے کہ تم یہ عقیدہ رکھتے ہوئے کہ یہ تمہیں نفع دے گا ، تو تم فطرت ( یعنی دین اسلام ) کے علاوہ پر مرو گے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے ، اور وہ ثقہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8402
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (172/18) أخرجه احمد فى المسند (4414)»