مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطب— طب کے بارے میں روایات
بَابُ فِيمَنْ يُعَلِّقُ تَمِيمَةً أَوْ نَحْوَهَا باب: اس شخص کا بیان ، جو تعویذ وغیرہ لٹکا دیتا ہے
حدیث نمبر: 8401
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " مَا أُبَالِي مَا أَتَيْتُ ، وَلَا مَا ارْتَكَبْتُ ، إِذَا أَنَا شَرِبْتُ تِرْيَاقًا ، أَوْ عَلَّقْتُ تَمِيمَةً ، أَوْ نَطَقْتُ شِعْرًا ، مِنْ قِبَلِ نَفْسِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مُوسَى بْنِ عِيسَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْحِمْصِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ میں نے کیا کیا ہے ، اور کس کام کا ارتکاب کیا ہے ، جبکہ میں نے تریاق پی لیا ہو ، یا تعویذ لٹکا لیا ہو ، یا اپنی طرف سے شعر موزوں کر دیا ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، اپنے استاد موسیٰ بن عیسیٰ بن منذر حمصی کے حوالے سے نقل کی ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔