حدیث نمبر: 83
وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ : شَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا يَجِدُونَ مِنَ الْوَسْوَسَةِ ، وَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا نَجِدُ شَيْئًا لَوْ أَنَّ أَحَدَنَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ كَانَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ ! فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ذَاكَ مَحْضُ الْإِيمَانِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّ لَفْظَ أَبِي يَعْلَى : أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعَائِشَةَ : إِنَّ أَحَدَنَا يُحَدِّثُ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ لَوْ تَكَلَّمَ بِهِ ذَهَبَتْ آخِرَتُهُ ، وَلَوْ ظَهَرَ [ عَلَيْهِ ] لَقُتِلَ ، [ قَالَ ] فَكَبَّرَتْ ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَتْ : سُئِلَ عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَبَّرَ ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّمَا يُخْتَبَرُ بِهَذَا الْمُؤْمِنُ " . وَفِي إِسْنَادِهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ بیان کرتی ہیں : کچھ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے وسوسے آنے کے حوالے سے شکایت کی انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم ایسا خیال بھی پاتے ہیں کہ اگر ہم میں سے کوئی ایک آسمان سے گر جائے ، تو یہ اُس کے نزدیک اس خیال کے بارے میں بات کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہو گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :” یہ محض ایمان ہے“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے ، اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم امام ابویعلیٰ کے الفاظ یہ ہیں : ” ایک شخص نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ہم میں سے کسی ایک شخص کو بعض اوقات ایسا خیال آتا ہے کہ اگر آدمی اُس کے بارے میں بات کر لے ، تو اس کی آخرت تباہ ہو جائے اور اگر وہ اُس خیال کو ظاہر کرئے تو اسے قتل کر دیا جائے راوی بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے تین مرتبہ تکبیر کہی ، پھر انہوں نے فرمایا : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس بارے میں دریافت کیا گیا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ تکبیر کہی تھی اور پھر یہ ارشاد فرمایا تھا : اس کے ذریعے مؤمن کا امتحان لیا جاتا ہے “ ۔
اس روایت کی سند میں ، ایک راوی شہر بن حوشب ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 83
درجۂ حدیث محدثین: وهلذا إسناد منقطع ، ولكن الحديث صحيح بشواهده
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده /2/ 106 اخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 4114 اورده المؤلف فى زوائد المسند 96 أورده المؤلف فى المقصد العلى 27»