مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطب— طب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْعَدْوَى وَالْهَامِ وَالطِّيَرَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ باب: بیماری کے متعدی ہونے ، ہام ، شگون اور دیگر امور کا بیان
وَعَنْ أَبِي طَلْحَةَ الْخَوْلَانِيِّ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى عُمَيْرِ بْنِ سَعْدٍ فِي نَفَرٍ مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ ، فَذَكَرْتُ عِنْدَهُ الْعَدْوَى ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " لَا عَدْوَى ، وَلَا طِيَرَةَ ، وَلَا هَامَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ قِصَّةٌ طَوِيلَةٌ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ سِنَانٍ الْحَنَفِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ابوطلحہ خولانی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا عمیر بن سعد رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ہم فلسطین سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد تھے ، میں نے ان کے سامنے بیماری کے متعدی ہونے کا ذکر کیا ، تو انہوں نے ارشاد فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ( بیماری کے ) متعدی ہونے ، بدشگونی اور ہام کی کوئی حیثیت نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس میں ایک طویل قصہ نقل ہوا ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن حبان حنفی ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ امام أحمد اور دیگر حضرات نے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔