حدیث نمبر: 8394
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " لَا عَدْوَى " . ¤ فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِنَّا نَأْخُذُ الشَّاةَ الْجَرِبَةَ فَنَطْرَحُهَا فِي الْغَنَمِ فَتَجْرَبُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَعْرَابِيُّ مَنْ أَجْرَبَ الْأُولَى ؟ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ بَعْضِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ( بیماری کے ) متعدی ہونے کی کوئی حیثیت نہیں ہے ایک دیہاتی نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بعض اوقات ہم ایک خارش زدہ بکری لیتے ہیں اور اسے بکریوں میں چھوڑ دیتے ہیں ، تو وہ ساری بکریاں خارش والی ہو جاتی ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے دیہاتی ! پہلی والی کو کس نے خارش میں مبتلا کیا تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ۔ جس میں سے بعض کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8394
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (2333) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11605) اخرجه احمد في المسند (269,245)»