حدیث نمبر: 8392
وَعَنْ أَبِي طَلْحَةَ الْخَوْلَانِيِّ قَالَ : بَيْنَمَا عُمَيْرُ بْنُ سَعْدٍ فِي نَفَرٍ مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ - وَكَانَ يُقَالُ : نَسِيجٌ وَحْدَهُ - فَقَعَدَ عَلَى دُكَّانٍ لَهُ عَظِيمٍ فِي دَارِهِ ، فَقَالَ لِغُلَامِهِ : يَا غُلَامُ أَوْرِدِ الْخَيْلَ ، قَالَ : وَفِي الدَّارِ تَوْرٌ مِنْ حِجَارَةٍ قَالَ : فَأَوْرَدَهَا فَقَالَ : أَيْنَ فُلَانَةُ ؟ قَالَ : هِيَ جَرِبَةٌ تَقْطُرُ دَمًا - أَوْ قَالَ : تَقْطُرُ مَاءً - شَكَّ أَبُو إِسْحَاقَ - قَالَ : أَوْرَدَهَا ، فَقَالَ أَحَدُ الْقَوْمِ : إِذًا تَجْرَبَ الْخَيْلُ كُلُّهَا ، قَالَ : أَوْرِدْهَا ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " لَا عَدْوَى ، وَلَا طِيَرَةَ ، وَلَا هَامَةَ ، أَلَمْ تَرَ إِلَى الْبَعِيرِ يَكُونُ فِي الصَّحْرَاءِ ، يُصْبِحُ فِي كَرْكَرَتِهِ - أَوْ فِي مَرَاقِهِ - بَلِيَّةٌ لَمْ تَكُنْ قَبْلَ ذَلِكَ ، فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ ؟ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ سِنَانٍ الْحَنَفِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

ابوطلحہ خولانی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ عمیر بن سعد ، اہل فلسطین کے کچھ لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے ، اور یہ بات کہی جاتی تھی کہ وہ اکیلتے بننے والے تھے ، وہ اپنے گھر کے باہر بڑے سے چبوترے پر تشریف فرما تھے ، انہوں نے اپنے غلام سے کہا: اے غلام گھوڑوں کے پاس جاؤ ! اس نے کہا: گھر میں پتھر کا ایک پیالہ موجود ہے ۔ انہوں نے کہا: اسے لے جاؤ پھر انہوں نے دریافت کیا : فلانی کہاں ہے ؟ اس نے کہا: اسے خارش کی شکایت ہے جس میں سے خون نکل رہا ہے ، یہاں پر ایک لفظ کے بارے میں ابواسحاق نامی راوی کو شک ہے ۔ انہوں نے فرمایا : اسے بھی پانی پلانے لے جاؤ حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا: ایسی صورت میں ، تو تمام گھوڑے خارش کا شکار ہو جائیں گے ۔ انہوں نے فرمایا : تم اسے بھی لے جاؤ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ( بیماری کے ) متعدی ہونے ، شگون ، ہامہ کی کوئی حقیقت نہیں ہے کیا تم نے اونٹ کو نہیں دیکھا جو صحراء میں یوں ہوتا ہے کہ وہ صبح کے وقت اپنے باڑے میں ہوتا ہے ، اور اسے اس سے پہلے کوئی بیماری لاحق نہیں ہوتی ، تو پہلے والے کو کس نے بیماری لاحق کی ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن حنان ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8392
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابويعلى فى المسند (1580) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (54/17)»