مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطب— طب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْكَيِّ باب: داغ لگوانے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 8375
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ : أَتَيْتُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَإِذَا هُوَ يَكْوِي غُلَامًا ، قَالَ : قُلْتُ : تَكْوِيهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، هُوَ دَوَاءُ الْعَرَبِ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُنْزِلْ دَاءً إِلَّا وَقَدْ أَنْزَلَ مَعَهُ دَوَاءً ، جَهِلَهُ مَنْ جَهِلَهُ ، وَعَلِمَهُ مَنْ عَلِمَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . وَعَطَاءٌ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
عطاء بن سائب بیان کرتے ہیں : میں ابوعبدالرحمن کے پاس آیا وہ ایک غلام کو داغ لگا رہے تھے میں نے دریافت کیا : کیا آپ داغ لگا رہے ہیں انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! یہ عربوں کا طریقہ علاج ہے ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری نازل کی ہے اس کے لئے دواء بھی نازل کی ہے جو شخص اس سے ناواقف رہے وہ نا واقف ہے ، اور جو شخص اس کو جان لے ، وہ جان لیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ عطاء نامی راوی اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔