کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: داغ لگوانے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 8361
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : ¤ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْكَيِّ ، وَكَانَ يَكْرَهُ شُرْبَ الْحَمِيمِ ، وَكَانَ إِذَا اكْتَحَلَ اكْتَحَلَ وِتْرًا ، وَإِذَا اسْتَجْمَرَ اسْتَجْمَرَ وِتْرًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا ابْنَ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے داغ لگوانے سے منع فرمایا ہے ، اور آپ نے گرم پانی پینے سے منع فرمایا ہے ، جب آپ سرمہ لگاتے تھے ، تو طاق تعداد میں لگاتے تھے اور جب ( استنجاء کرنے کے بعد ) ڈھیلے استعمال کرتے تھے ، تو طاق تعداد میں کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابن لہیعہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8361
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 8362
وَعَنْ سَعْدٍ الطَّفْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنِ الْكَيِّ وَقَالَ : " أَكْرَهُ شُرْبِ الْحَمِيمِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد طفری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے داغ لگوانے سے منع کیا ہے ، اور یہ ارشاد فرمایا ہے : میں گرم پانی پینے کو ناپسند کرتا ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8362
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5480)»
حدیث نمبر: 8363
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " إِنَّ النَّارَ لَا تَشْفِي أَحَدًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْبَكْرِيُّ ، ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک آگ کسی کو شفاء نہیں دیتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن یزید بکری ہے ، جسے امام ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8363
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 8364
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : ¤ أَنْ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ أَخُوهُ وَقَدْ سُقِيَ بَطْنُهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ أَخِي سُقِيَ بَطْنُهُ ، فَأَتَيْنَا الْأَطِبَّاءَ فَأَمَرُونِي بِالْكَيِّ ، أَفَأَكْوِيهِ ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَكْوُوهُ ، وَرَدَّهُ إِلَى أَهْلِهِ " . فَمَرَّ بِهِ بِعِيرٌ فَضَرَبَ بَطْنَهُ ، فَانْخَمَصَ بَطْنُهُ ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَتَيْتَ بِهِ الْأَطِبَّاءَ قُلْتَ : النَّارُ شَفَتْهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى الْخَزَّازُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس کے ساتھ اس کا بھائی بھی تھا ، جسے پیچش لگے ہوئے تھے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے بھائی کو پیچش لگے ہوئے ہیں ، ہم طبیبوں کے پاس گئے ، انہوں نے داغ لگوانے کی ہدایت کی ، کیا میں اسے داغ لگوا دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے داغ نہ لگواؤ ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو اس کے گھر واپس بھجوا دیا ایک اونٹ اس شخص کے پاس سے گزرا اس نے اس شخص کے پیٹ پر مارا ، تو اس کی وجہ سے اس کا پیٹ ٹھیک ہو گیا ، اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم طبیبوں کے پاس گئے ہوتے ، تو تم نے یہ کہنا تھا کہ آگ نے اسے شفاء دی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ خزاز ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8364
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (691) اخرجه الطبراني في المعجم الكبير (153/18)»
حدیث نمبر: 8365
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " مَكَانُ الْكَيِّ التَّكْمِيدُ ، وَمَكَانُ الْعِلَاقِ السَّعُوطُ ، وَمَكَانُ النَّفْخِ اللَّدُودُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمْ يَسْمَعْ عَنْ عَائِشَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ( علاج میں ) داغ لگوانے کی جگہ ، کپڑا گرم کر کے ٹکور کرنے ، گلا ملنے کی جگہ ، ناک میں دوائی ڈالنے اور ( پیٹ کے ) پھولنے ( یا ورم ) کی صورت میں ، منہ کے ایک طرف روائی ٹپکانے ( کا طریقہ اختیار کیا جائے ) “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ ابراہیم نامی راوی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8365
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (170/6)»
حدیث نمبر: 8366
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، أَخْبَرَ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ ، وَكَانَ أَحَدَ النُّقَبَاءِ يَوْمَ الْعَقَبَةِ ، أَنَّهُ أَخَذَتْهُ الشَّوْكَةُ ، فَجَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعُودُهُ ، فَقَالَ : ¤ " بِئْسَ الْمَيِّتُ لِلْيَهُودِ - مَرَّتَيْنِ - يَقُولُونَ : لَوْلَا دَفَعَ عَنْ صَاحِبِهِ ، وَلَا أَمْلِكُ لَهُ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا ، وَلَأَتَمَحَلَنَّ لَهُ " . فَكُوِيَ بِخَطَّيْنِ فَوْقَ رَأْسِهِ فَمَاتَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَالَ ابْنُ مَعِينٍ مَرَّةً : صُوَيْلِحٍ وَقَدْ وَافَقَ النَّاسَ فِي تَضْعِيفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سیدنا ابوامامہ سعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : جو بیعت عقبہ کے نقباء میں سے ایک تھے ، انہیں کانٹا لگ گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس ان کی عیادت کرنے کے لئے تشریف لائے آپ نے ارشاد فرمایا : بری میت یہودیوں کی ہوتی ہے ، یہ بات آپ نے دو مرتبہ ارشاد فرمائی ، وہ لوگ یہ کہتے ہیں : کہ ان صاحب نے اپنے ساتھی کی بیماری ختم کیوں نہیں کروائی ؟ حالانکہ میں اس کے لئے ( ذاتی طور پر ) کسی نقصان ، یا نفع کا مالک نہیں ہوں ، لیکن میں اس کے لیے کوئی حیلہ ( یعنی طریقہ علاج ) ضرور اختیار کروں گا ، پھر آپ نے اُن کے سر پر ، دو لکیروں میں داغ لگوائے ، تو ان صاحب کا انتقال ہو گیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زمعہ بن صالح ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، ایک مرتبہ یحیی بن معین نے یہ کہا: ہے : یہ کم درجہ کا صالح ہے ، اور اس کی تضعیف میں انہوں نے لوگوں کی موافقت کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8366
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (138/4)»
حدیث نمبر: 8367
وَعَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : كَوَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَعْدًا ، أَوْ سَعْدَ بْنَ زُرَارَةَ فِي حَلْقِهِ مِنَ الذَّبْحَةِ وَقَالَ : ¤ " لَا أَدَعُ فِي نَفْسِي حَرَجًا مِنْ سَعْدٍ - أَوْ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ - " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) سیدنا سعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کو ” ذبحہ “ نامی بیماری کی وجہ سے ، ان کے حلق میں داغ لگوایا اور فرمایا : ” میں سعد کے حوالے سے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) ( اسعد بن زرارہ کے حوالے سے اپنے من میں الجھن نہیں چھوڑوں گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8367
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (4/65)»
حدیث نمبر: 8368
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ : ¤ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَوَاهُ . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں داغ لگوایا تھا ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8368
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (115/5)»
حدیث نمبر: 8369
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ قَالَ : حَدَّثَنِي عَمِّي : أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ أَصَابَهُ وَجَعٌ يُسَمِّيهِ أَهْلُ الْمَدِينَةِ : الذَّبْحُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَأُبْلَيَنَّ - أَوْ لَأَبْلُغَنَّ - فِي أَبِي أُمَامَةَ عُذْرًا " . قَالَ : فَكَوَاهُ بِيَدِهِ فَمَاتَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَيْتَةُ سُوءٍ لِلْيَهُودِ تَقُولُ : أَلَا دَفَعَ عَنْ صَاحِبِهِ ؟ وَلَا أَمَلِكُ لَهُ وَلَا لِنَفْسِي مِنَ اللَّهِ شَيْئًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن عبدالرحمن بن اسد بن زرارہ بیان کرتے ہیں : میرے چچا نے مجھے یہ بات بتائی ہے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کو ایک تکلیف لاحق ہوئی جسے اہل مدینہ ذبح کہتے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھ تک ابوامامہ کے بارے میں عذر پہنچ جائے گا راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے انہیں داغ لگایا اور ان کا انتقال ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہودیوں کے لئے بری موت ہے جو یہ کہتے ہیں : کہ ان صاحب نے اپنے ساتھی سے تکلیف کو دور کیوں نہیں کروایا میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں اس کے لئے یا اپنے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8369
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (896)»
حدیث نمبر: 8370
وَعَنْ عَائِشَةَ : ¤ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ بِابْنِ زُرَارَةَ أَنْ يُكْوَى . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن زرارہ کے بارے میں حکم دیا تھا کہ اسے داغ لگوایا جائے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8370
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4825)»
حدیث نمبر: 8371
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ : ¤ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ يُعُودُهُ مِنْ وَجَعٍ أَصَابَهُ مِنَ الشَّوْكَةِ ، وَكَوَاهُ عَلَى عَاتِقِهِ فَمَاتَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " شَرُّ مَيِّتٍ لِلْيَهُودِ ، يَقُولُونَ : قَدْ دَاوَاهُ صَاحِبُهُ فَلَمْ يَنْفَعْهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ ، وَضَعَّفَهُ فِي غَيْرِهَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لئے ان کے پاس تشریف لائے انہیں کانٹا لگنے کی وجہ سے تکلیف ہوئی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی گردن پر داغ لگوایا تو ان کا انتقال ہو گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہودیوں کے لئے بری موت ہے جو یہ کہتے ہیں : کہ انہوں نے اپنے ساتھی کو دواء دی اور اس دواء نے اس کو فائدہ نہیں دیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زمعہ بن صالح ہے جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ثقہ کہا: ہے ، اور دوسری کے مطابق انہوں نے بھی اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8371
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (5583)»
حدیث نمبر: 8372
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ : ¤ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ وَبِهِ وَجَعٌ يُقَالُ لَهُ : الشَّوْكَةُ ، فَكَوَاهُ عَلَى عُنُقِهِ فَمَاتَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بِئْسَ الْمَيِّتُ لِلْيَهُودِ يَقُولُونَ : قَدْ دَاوَاهُ صَاحِبُهُ فَمَا نَفَعَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے ، جنہیں ایک تکلیف لاحق ہوئی جسے ” شوکہ “ کہا: جاتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی گردن پر داغ لگوایا تو ان کا انتقال ہو گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہودیوں کے لئے بری میت ہے جو یہ کہتے ہیں : اس کے آقا نے اسے دواء دی اور اس نے اس کو فائدہ نہیں دیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8372
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5584)»
حدیث نمبر: 8373
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَادَ الْبَرَاءَ بْنَ مَعْرُورٍ وَقَدْ أَخَذَتْهُ ذَبْحَةٌ ، فَأَمَرَ مَنْ يَبُطُّهُ بِالنَّارِ حَتَّى يُوَجِّهَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مِنْ وَلَدِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا براء بن معرور رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لئے گئے جنہیں ” ذبحہ “ نامی بیماری لاحق تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ انہیں آگ کے ذریعے داغ لگایا جائے ، تاکہ وہ ٹھیک ہو جائیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن عبداللہ ہے ، جو سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8373
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (83/19)»
حدیث نمبر: 8374
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - أَنْ نَاسًا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : إِنَّ صَاحِبًا لَنَا اشْتَكَى ، أَفَنَكْوِيهِ ؟ فَسَكَتَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ : " إِنْ شِئْتُمْ فَاكْوُوهُ ، وَإِنْ شِئْتُمْ فَارْضِفُوهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : ہمارے ایک ساتھی کو بیماری لاحق ہو گئی ہے کیا ہم اسے داغ لگوا دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اگر تم چاہو ، تو اسے داغ لگوا لو اور اگر چاہو ، تو اس پر گرم پتھر لگا دو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابوعبیدہ نامی راوی نے اپنے والد ( سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8374
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (5095) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10275) اخرجه احمد (3701,3852,5021.504)»
حدیث نمبر: 8375
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ : أَتَيْتُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَإِذَا هُوَ يَكْوِي غُلَامًا ، قَالَ : قُلْتُ : تَكْوِيهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، هُوَ دَوَاءُ الْعَرَبِ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُنْزِلْ دَاءً إِلَّا وَقَدْ أَنْزَلَ مَعَهُ دَوَاءً ، جَهِلَهُ مَنْ جَهِلَهُ ، وَعَلِمَهُ مَنْ عَلِمَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . وَعَطَاءٌ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عطاء بن سائب بیان کرتے ہیں : میں ابوعبدالرحمن کے پاس آیا وہ ایک غلام کو داغ لگا رہے تھے میں نے دریافت کیا : کیا آپ داغ لگا رہے ہیں انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! یہ عربوں کا طریقہ علاج ہے ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری نازل کی ہے اس کے لئے دواء بھی نازل کی ہے جو شخص اس سے ناواقف رہے وہ نا واقف ہے ، اور جو شخص اس کو جان لے ، وہ جان لیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ عطاء نامی راوی اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8375
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه أحمد فى المسند (4267)»