مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطب— طب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْكَيِّ باب: داغ لگوانے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 8374
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - أَنْ نَاسًا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : إِنَّ صَاحِبًا لَنَا اشْتَكَى ، أَفَنَكْوِيهِ ؟ فَسَكَتَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ : " إِنْ شِئْتُمْ فَاكْوُوهُ ، وَإِنْ شِئْتُمْ فَارْضِفُوهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : ہمارے ایک ساتھی کو بیماری لاحق ہو گئی ہے کیا ہم اسے داغ لگوا دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اگر تم چاہو ، تو اسے داغ لگوا لو اور اگر چاہو ، تو اس پر گرم پتھر لگا دو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابوعبیدہ نامی راوی نے اپنے والد ( سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے سماع نہیں کیا ہے ۔