مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطب— طب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحُمَّى وَإِبْرَادِهَا بِالْمَاءِ باب: بخار کے بارے میں اور اس کو پانی کے ذریعے ٹھنڈا کرنے کے بارے میں جو کچھ ہے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُرَفَّعِ قَالَ : فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْبَرَ وَهُوَ فِي أَلْفٍ وَثَمَانِمِائَةٍ ، فَقُسِّمَ عَلَى ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا ، لِكُلِّ مِائَةٍ سَهْمٌ ، قَالَ : وَهِيَ مُخْضَرَّةٌ مِنَ الْفَوَاكِهِ ، فَأَكَلُوا ، فَمَعَكَتْهُمُ الْحُمَّى ، فَشَكَوْهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ هَذِهِ الْحُمَّى رَائِدُ الْمَوْتِ ، وَسِجْنُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ ، هِيَ قِطْعَةٌ مِنَ النَّارِ ، فَإِذَا أَخَذَتْكُمْ فَبَرِّدُوا لَهَا الْمَاءَ فِي الشِّنَانِ - يَعْنِي الْقِرَبَ - وَصُبُّوا عَلَيْكُمْ مَا بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ " . - يَعْنِي : الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ فُرَيْحُ بْنُ عُبَيْدٍ ، وَالْمُحَبَّرُ بْنُ هَارُونَ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْحُمَّى فِي الْجَنَائِزِ . ¤سیدنا عبدالله بن مرفوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کر لیا آپ کے ہمراہ اٹھارہ سو افراد تھے ، تو خیبر کو اٹھارہ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہر سو افراد کو ایک حصہ ملا ، راوی بیان کرتے ہیں : اس وقت وہاں پھل کثرت سے تھے ، لوگوں نے انہیں کھایا ، تو انہیں بخار ہو گیا لوگوں نے اس کی شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! بے شک یہ بخار ، موت کا پیش خیمہ ( یا ہر اول دستہ ) ہے ، اور یہ زمین میں اللہ کا قید خانہ ہے ، یہ جہنم کا ایک ٹکڑا ہے ، جب یہ تمہیں گرفت میں لے ، تو تم مشکیزے میں موجود پانی کے ذریعے اسے ٹھنڈا کرو ، اور تم وہ پانی دو نمازوں ( راوی کہتے ہیں : یعنی مغرب اور عشاء کے درمیان ) اپنے اوپر بہاؤ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فریح بن عبید ہے ، اور ایک راوی محبر بن ہارون ہے ، میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے بخار کے بارے میں کچھ احادیث ، جنائز سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔