کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: بخار کے بارے میں اور اس کو پانی کے ذریعے ٹھنڈا کرنے کے بارے میں جو کچھ ہے
حدیث نمبر: 8342
عَنْ أَبِي بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ فِي الْحُمَّى : ¤ " أَبَرِدُوهَا بِالْمَاءِ ، فَإِنَّهَا مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبشیر انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بخار کے بارے میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے : ” اسے پانی کے ذریعے ٹھنڈا کرو ! کیونکہ یہ جہنم کی تپش کا حصہ ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8343
وَعَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْحُمَّى قِطْعَةٌ مِنَ النَّارِ ، فَأَبْرِدُوهَا عَنْكُمْ بِالْمَاءِ الْبَارِدِ " . ¤ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا حُمَّ دَعَا بِقِرْبَةٍ مِنْ مَاءٍ فَأَفْرَغَهَا عَلَى قَرْنِهِ ، فَاغْتَسَلَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بخار آگ کا ٹکڑا ہے ، تو تم ٹھنڈے پانی کے ذریعے اسے خود سے ٹھنڈا کرو “ ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بخار ہوتا تھا تو آپ پانی کا مشکیزہ منگواتے تھے ، اور اسے اپنی مانگ ( یعنی سر پر بہا دیتے تھے اور غسل کر لیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 8344
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " إِذَا حُمَّ أَحَدُكُمْ فَلْيَسِنَّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ مِنَ السَّحَرِ ثَلَاثَ لَيَالٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب تم میں سے کسی ایک شخص کو بخار ہو ، تو اسے صبح سے پڑا ہوا ، ٹھنڈا پانی ، اپنے اوپر بہا دینا چاہیے اور یہ عمل تین راتوں تک کرنا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8345
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ : قَالَ نُعَيْمَانُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِي وَعْكٌ شَدِيدٌ مِنَ الْحُمَّى ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَأَيْنَ أَنْتَ يَا نُعَيْمَانُ مِنْ مَهِيعَةَ ؟ " وَكَانَتْ أَرْضًا وَبِيئَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْبَكْرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا نعیمان رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے بخار کی وجہ سے شدید تکلیف ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے نعیمان ! تم مہیعہ میں کیا کر رہے ہو ؟ راوی کہتے ہیں : وہ ایک وبائی سرزمین تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن یزید بکری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن یزید بکری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 8346
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُرَفَّعِ قَالَ : غَزَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْبَرَ فِي أَلْفٍ وَثَمَانِمَائَةٍ ، فَافْتَتَحَهَا وَهِيَ مُخْضَرَّةٌ مِنَ الْفَوَاكِهِ ، فَوَقَعَ النَّاسُ فِيهَا ، فَغَشِيَتْهُمُ الْحُمَّى ، فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : ¤ " إِنَّ الْحُمَّى رَائِدُ الْمَوْتِ ، وَهِيَ سِجْنُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ ، فَبَرِّدُوا لَهَا الْمَاءَ فِي الشِّنَانِ ، وَصَبُّوهُ عَلَيْكُمْ فِيمَا بَيْنَ الْأَذَانَيْنِ : أَذَانِ الْمَغْرِبِ وَأَذَانِ الْعِشَاءِ " . ¤ فَفَعَلُوا ، فَذَهَبْتُ عَنْهُمْ ، فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرُوهُ بِذَلِكَ فَقَالَ : " إِنَّهُ لَا وِعَاءَ إِذَا مُلِئَ شَرٌّ مِنْ بَطْنِ ، فَإِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ فَاعِلِينَ فَاجْعَلُوهَا ثُلُثًا لِلطَّعَامِ ، وَثُلُثًا لِلشَّرَابِ ، وَثُلُثًا لِلرِّيحِ أَوِ النَّفْسِ " . ¤ قَالَ : وَقَسَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْمُحَبَّرُ بْنُ هَارُونَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن مرفع رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھارہ سو افراد سمیت غزوہ خبیر میں تشریف لے گئے آپ نے خبیر فتح کر لیا وہاں پر بہت سے پھل موجود تھے لوگ انہیں استعمال کرنے لگے پھر ان لوگوں کو بخار ہو گیا وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اور یہ بات آپ کے سامنے ذکر کی ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” بخار موت کا پیش خیمہ ( یا ہر اول دستہ ) ہے ، اور زمین میں اللہ کا قید خانہ ہے ، تو تم مشکیزے میں موجود پانی کے ذریعے اسے ٹھنڈا کرو ، اور دو اذانوں ، یعنی مغرب کی اذان اور عشاء کی اذان کے درمیان وہ پانی اپنے اوپر بہاؤ “ ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) ان لوگوں نے ایسا ہی کیا ، تو وہ بخار ان سے ختم ہو گیا وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اور ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” کوئی بھی بھرا ہوا برتن ، پیٹ سے زیادہ برا نہیں ہے اگر تم نے ضرور ایسا کرنا ہو ، تو اس ( یعنی پیٹ ) کا ایک تہائی حصہ کھانے کے لئے ایک تہائی حصہ پینے کے لئے ، اور ایک تہائی حصہ ہوا کے لئے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) سانس کے لئے رکھو “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو اٹھارہ حصوں میں تقسیم کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محبر بن ہارون ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محبر بن ہارون ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8347
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُرَفَّعِ قَالَ : فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْبَرَ وَهُوَ فِي أَلْفٍ وَثَمَانِمِائَةٍ ، فَقُسِّمَ عَلَى ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا ، لِكُلِّ مِائَةٍ سَهْمٌ ، قَالَ : وَهِيَ مُخْضَرَّةٌ مِنَ الْفَوَاكِهِ ، فَأَكَلُوا ، فَمَعَكَتْهُمُ الْحُمَّى ، فَشَكَوْهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ هَذِهِ الْحُمَّى رَائِدُ الْمَوْتِ ، وَسِجْنُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ ، هِيَ قِطْعَةٌ مِنَ النَّارِ ، فَإِذَا أَخَذَتْكُمْ فَبَرِّدُوا لَهَا الْمَاءَ فِي الشِّنَانِ - يَعْنِي الْقِرَبَ - وَصُبُّوا عَلَيْكُمْ مَا بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ " . - يَعْنِي : الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ فُرَيْحُ بْنُ عُبَيْدٍ ، وَالْمُحَبَّرُ بْنُ هَارُونَ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْحُمَّى فِي الْجَنَائِزِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالله بن مرفوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کر لیا آپ کے ہمراہ اٹھارہ سو افراد تھے ، تو خیبر کو اٹھارہ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہر سو افراد کو ایک حصہ ملا ، راوی بیان کرتے ہیں : اس وقت وہاں پھل کثرت سے تھے ، لوگوں نے انہیں کھایا ، تو انہیں بخار ہو گیا لوگوں نے اس کی شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! بے شک یہ بخار ، موت کا پیش خیمہ ( یا ہر اول دستہ ) ہے ، اور یہ زمین میں اللہ کا قید خانہ ہے ، یہ جہنم کا ایک ٹکڑا ہے ، جب یہ تمہیں گرفت میں لے ، تو تم مشکیزے میں موجود پانی کے ذریعے اسے ٹھنڈا کرو ، اور تم وہ پانی دو نمازوں ( راوی کہتے ہیں : یعنی مغرب اور عشاء کے درمیان ) اپنے اوپر بہاؤ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فریح بن عبید ہے ، اور ایک راوی محبر بن ہارون ہے ، میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے بخار کے بارے میں کچھ احادیث ، جنائز سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فریح بن عبید ہے ، اور ایک راوی محبر بن ہارون ہے ، میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے بخار کے بارے میں کچھ احادیث ، جنائز سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔