حدیث نمبر: 8346
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُرَفَّعِ قَالَ : غَزَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْبَرَ فِي أَلْفٍ وَثَمَانِمَائَةٍ ، فَافْتَتَحَهَا وَهِيَ مُخْضَرَّةٌ مِنَ الْفَوَاكِهِ ، فَوَقَعَ النَّاسُ فِيهَا ، فَغَشِيَتْهُمُ الْحُمَّى ، فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : ¤ " إِنَّ الْحُمَّى رَائِدُ الْمَوْتِ ، وَهِيَ سِجْنُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ ، فَبَرِّدُوا لَهَا الْمَاءَ فِي الشِّنَانِ ، وَصَبُّوهُ عَلَيْكُمْ فِيمَا بَيْنَ الْأَذَانَيْنِ : أَذَانِ الْمَغْرِبِ وَأَذَانِ الْعِشَاءِ " . ¤ فَفَعَلُوا ، فَذَهَبْتُ عَنْهُمْ ، فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرُوهُ بِذَلِكَ فَقَالَ : " إِنَّهُ لَا وِعَاءَ إِذَا مُلِئَ شَرٌّ مِنْ بَطْنِ ، فَإِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ فَاعِلِينَ فَاجْعَلُوهَا ثُلُثًا لِلطَّعَامِ ، وَثُلُثًا لِلشَّرَابِ ، وَثُلُثًا لِلرِّيحِ أَوِ النَّفْسِ " . ¤ قَالَ : وَقَسَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْمُحَبَّرُ بْنُ هَارُونَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبدالرحمن بن مرفع رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھارہ سو افراد سمیت غزوہ خبیر میں تشریف لے گئے آپ نے خبیر فتح کر لیا وہاں پر بہت سے پھل موجود تھے لوگ انہیں استعمال کرنے لگے پھر ان لوگوں کو بخار ہو گیا وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اور یہ بات آپ کے سامنے ذکر کی ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” بخار موت کا پیش خیمہ ( یا ہر اول دستہ ) ہے ، اور زمین میں اللہ کا قید خانہ ہے ، تو تم مشکیزے میں موجود پانی کے ذریعے اسے ٹھنڈا کرو ، اور دو اذانوں ، یعنی مغرب کی اذان اور عشاء کی اذان کے درمیان وہ پانی اپنے اوپر بہاؤ “ ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) ان لوگوں نے ایسا ہی کیا ، تو وہ بخار ان سے ختم ہو گیا وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اور ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” کوئی بھی بھرا ہوا برتن ، پیٹ سے زیادہ برا نہیں ہے اگر تم نے ضرور ایسا کرنا ہو ، تو اس ( یعنی پیٹ ) کا ایک تہائی حصہ کھانے کے لئے ایک تہائی حصہ پینے کے لئے ، اور ایک تہائی حصہ ہوا کے لئے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) سانس کے لئے رکھو “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو اٹھارہ حصوں میں تقسیم کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محبر بن ہارون ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8346
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف