مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطب— طب کے بارے میں روایات
بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّدَاوِي بِالْحَرَامِ باب: حرام چیز کو دواء کے طور پر استعمال کرنے کی ممانعت
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : اشْتَكَتِ ابْنَةٌ لِي ، فَنَبَذْتُ لَهَا فِي تَوْرٍ ، فَدَخْلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَغْلِي ، فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " فَقُلْتُ : إِنَّ ابْنَتِي اشْتَكَتْ ، فَنَبَذْتُ لَهَا هَذَا ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَمْ يَجْعَلْ شِفَاءَكُمْ فِي حَرَامٍ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " فِي كُوزٍ " بَدَلَ " تَوْرٍ " . وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا حَسَّانَ بْنَ مُخَارِقٍ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میری ایک بیٹی بیمار ہو گئی میں نے اس کے لئے ایک پیالے میں نبیذ تیار کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے ، تو اس نبیذ میں جوش آ رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : میری بیٹی بیمار ہو گئی ہے میں نے اس کے لئے نبیذ تیار کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے حرام چیز میں ، تمہاری شفاء نہیں رکھی ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ تاہم انہوں نے پیالے کی جگہ لفظ کوزہ نقل کیا ہے امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حسان بن مخارق کا معاملہ مختلف ہے ، اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔