مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأشربة— مشروبات کے بارے میں روایات
بَابُ الشُّرْبِ قَائِمًا . باب: کھڑے ہو کر پینا
وَعَنْ مُسْلِمٍ قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَقَلَ رَاحِلَتَهُ ، وَهِيَ مُنَاخَةٌ وَأَنَا آخِذٌ بِخِطَامِهَا أَوْ بِزِمَامِهَا ، وَاضِعًا رِجْلِي عَلَى يَدِهَا ، فَجَاءَ نَفَرٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَامُوا حَوْلَهُ ، فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبَ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، ثُمَّ نَاوَلَ الَّذِي يَلِيهِ عَنْ يَمِينِهِ فَشَرِبَ قَائِمًا ، حَتَّى شَرِبَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ قِيَامًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَمُسْلِمٌ هَذَا لَمْ أَجِدْ مَنْ وَثَّقَهُ وَلَا جَرَحَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤مسلم بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کھڑے ہو کر پینے کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے فرمایا : اے میرے بھتیجے ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے اپنی سواری کو باندھ دیا ، جبکہ وہ بیٹھی ہوئی تھی اور میں نے اس کی لگام کو پکڑا ہوا تھا ، اور میں نے اپنا ایک پاؤں اس کے بازو پر رکھا ہوا تھا ، قریش سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد آئے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد کھڑے ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ کا برتن لایا گیا ، آپ نے اسے پی لیا حالانکہ آپ اس وقت اپنی سواری پر موجود تھے ، پھر آپ نے اسے اپنے دائیں طرف موجود فرد کی طرف بڑھایا ، تو اس نے کھڑے ہو کر اسے پی لیا ، یہاں تک کہ سب لوگوں نے اسے کھڑے ہو کر پیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ مسلم نامی اس راوی کی توثیق کرتے ہوئے ، یا اس پر جرح کرتے ہوئے ، میں نے کسی کو نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔