مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأشربة— مشروبات کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي مُدْمِنِ الْخَمْرِ . باب: باقاعدگی سے شراب پینے والے کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مُدْمِنُ خَمْرٍ ، وَلَا عَاقٌّ ، وَلَا مَنَّانٌ " . ¤ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيَّ ، لِأَنَّ الْمُؤْمِنِينَ يُصِيبُونَ ذُنُوبًا حَتَّى وَجَدْتُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى فِي الْعَاقِّ : فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ . الْآيَةَ . ¤ وَفِي الْمَنَّانِ : لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْأَذَى . الْآيَةَ . ¤ وَفِي الْخَمْرِ : إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ . الْآيَةَ إِلَى قَوْلِهِ : "فَاجْتَنِبُوهُ" . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ عَتَّابَ بْنَ بَشِيرٍ لَمْ أَعْرِفْ لَهُ مِنْ مُجَاهِدٍ سَمَاعًا . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” باقاعدگی سے شراب پینے والا ، ( والدین کا ) نافرمان ، اور احسان جتانے والا ، جنت میں داخل نہیں ہوں گے “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : یہ بات میرے لئے بڑی پریشانی کا باعث تھی ، کیونکہ اہل ایمان تو گناہوں کے مرتکب ہو جاتے ہیں ، یہاں تک کہ میں نے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ، نافرمان شخص کے بارے میں یہ بات پائی : ” تو کیا عنقریب ایسا ہو گا کہ اگر تم حکمران بن جاؤ ، تو تم زمین میں فساد کرو گے ، اور رشتہ داری کے حقوق پامال کرو گے “ ۔ احسان جتانے والے کے بارے میں کیا بات کہی تم اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور اذیت پہنچا کر باطل نہ کرو - اور شراب کے بارے میں یہ بات پائی : ” بے شک شراب اور جوا ، اور بت اور فال کے تیر “ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” تو تم ان سے اجتناب کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ عتاب بن بشیر کے مجاہد سے سماع سے میں واقف نہیں ہوں ۔