مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْبِرِّ وَالْإِثْمِ . باب: نیکی اور گناہ کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : الْإِثْمُ حَوَّازُ الْقُلُوبِ . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : حَوَّازُ الصُّدُورِ . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : مَا كَانَ مِنْ نَظْرَةٍ فَلِلشَّيْطَانِ فِيهَا مَطْمَعٌ ، وَالْإِثْمُ حَوَّازُ الْقُلُوبِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ كُلَّهُ بِأَسَانِيدَ رِجَالُهَا ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ ذَكَرَ ابْنُ الْأَثِيرِ فِي النِّهَايَةِ فِيهَا ثَلَاثَ لُغَاتٍ : حَوَّازٌ ، وَحَوَازٌّ ، وَحَزَّازٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : گناہ دل کو پریشانی کا شکار کر دیتا ہے ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سینوں کو پریشانی کا شکار کرنے والا ہے ۔
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : جو دیکھنا ہوتا ہے ، اُس میں شیطان کو لالچ ہوتا ہے ، اور گناہ دلوں کو پریشانی کا شکار کرنے والا ہے ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے ایسی اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں ، جن کے رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ابن اثیر نے کتاب ” النہایہ “ میں تین لغات ذکر کی ہیں : «حَوَاز ، وَحَوَازُ ، وَحَزَازَ» ( حواز کا لغوی معنی وہ امور ہیں ، جن سے دل کو الم یعنی الجھن یا تکلیف لاحق ہو ) ۔