حدیث نمبر: 8159
عَنْ شَرَاحِيلَ قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ : مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ أَخَذَ عُنْقُودًا فَعَصَرَهُ فَشَرِبَهُ ؟ قَالَ : لَا بَأْسَ بِهِ ، فَلَمَّا شَرِبَ قَالَ : حَلَّ شُرْبُهُ ، حَلَّ بَيْعُهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، وَفِيهِ ابْنُ بُكَيْلٍ وَطَيَّافٌ وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

شراحیل بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ ایسے شخص کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ جو انگوروں کا گچھہ لے کر اسے نچوڑ کر اسے پی لیتا ہے ، تو انہوں نے فرمایا : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، جب وہ اسے پی لیتا ہے ۔ انہوں نے فرمایا : اس کو پینا حلال ہے ، اور اس کو فروخت کرنا حلال ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث میں ذکر کی ہے ، جس کی سند میں ایک راوی ابن بکیل اور ایک راوی طیاف ہے ، میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8159
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2908)»