مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأشربة— مشروبات کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يَشْرَبُ مِنَ الْعَصِيرِ الْحُلْوِ وَنَحْوِهِ . باب: اس شخص کا بیان ، جو ( پھل کا ) میٹھا رس ، یا اس کی مانند کوئی چیز پیتا ہے
حدیث نمبر: 8160
وَعَنْ صُحَارِ بْنِ صَخْرٍ الْعَبْدِيِّ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنَّا بِأَرْضٍ كَثِيرٍ أَخَبَازُهَا وَبُقُولُهَا وَنَشْرَبُ النَّبِيذَ عَلَى ذَلِكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اشْرَبُوا مِنْهُ مَا لَا يُذْهِبُ الْعَقْلَ وَالْمَالَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَقَدْ وُثِّقَ ، وَمَنْصُورُ بْنُ أَبِي مَنْصُورٍ مَجْهُولٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا صحار بن صخر عبدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : ہم ایک ایسی جگہ پر رہتے ہیں ، جہاں روٹیاں اور سبزیاں زیادہ ہوتی ہیں ، ہم اس پر نبیذ پی لیتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اس میں سے وہ چیز پیو ، جو عقل اور مال کو رخصت نہ کرے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور ایک راوی منصور بن ابومنصور ہے جو مجہول ہے ۔