مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأشربة— مشروبات کے بارے میں روایات
بَابُ جَوَازِ الْاِنْتِبَاذِ فِي كُلِّ وِعَاءٍ . باب: ہر قسم کے برتن میں نبیذ تیار کرنے کا جائز ہونا
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ غَسَّانَ عَنِ أَبِيهِ قَالَ : كَانَ أَبِي فِي الْوَفْدِ الْذِينَ وَفَدُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَنْ عَبَدِ الْقَيْسِ ، فَنَهَاهُمْ عَنْ هَذِهِ الْأَوْعِيَةِ قَالَ : فََانْجَمْنَا ثُمَّ أَتَيْنَاهُ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ نَهَيْتِنَا عَنْ هَذِهِ الْأَوْعِيَةِ فَانْجَمْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " انْتَبِذُوا فِيمَا بَدَا لَكُمْ ، وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا ، مَنْ شَاءَ أَوْكَأَ سِقَاءَهُ عَلَى إِثْمٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤یحیی بن غسان ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میرے والد اس وفد میں شامل تھے ، جو عبدالقیس قبیلے کا وفد ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو ان برتنوں سے منع کر دیا ، راوی کہتے ہیں ، پھر ہم واپس چلے گئے ، پھر جب ہم اگلے سال آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ہمیں برتنوں سے منع کر دیا تھا ، تو ہم واپس چلے گئے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس ( برتن ) میں تمہیں مناسب لگے ، تم اس میں نبیذ تیار کر لو لیکن تم کوئی نشہ آور چیز نہ پینا اور جو شخص چاہے ، وہ اپنے مشکیزے کے منہ کو گناہ پر بند کر لے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔