حدیث نمبر: 8143
وَعَنِ الرَّسِيمِ أَنَّهُ قَالَ : وَفَدْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَهَانَا عَنِ الظُّرُوفِ . قَالَ : ثُمَّ قَدِمْنَا عَلَيْهِ فَقُلْنَا : إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ وَخِمَةٌ فَقَالَ : " اشْرَبُوا فِيمَا شِئْتُمْ ، مَنْ شَاءَ أَوْكَأَ سِقَاءَهُ عَلَى إِثْمٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْجَابِرُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ الْجُمْهُورِ ، وَوَثَّقَهُ أَحْمَدُ ، وَابْنُ الرَّسِيمِ : لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا رسیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ وفد کی شکل میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کچھ مخصوص برتنوں سے منع کر دیا ، پھر ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ہم نے عرض کی : ہماری زمین ایسی ہے ، جس کی آب و ہوا موافق نہیں ہوتی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جس میں چاہو پی لو ! لیکن جو شخص چاہے وہ اپنے مشکیزے کے منہ کو گناہ پر بند کر لے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ جابر ہے ، اور جمہور کے نزدیک وہ ضعیف ہے ، امام أحمد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، ابن رسیم نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8143
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4634) اخرجه احمد فى المسند (481/3)»