حدیث نمبر: 8145
وَعَنِ ابْنِ الرَّاسِبِيِّ عَنِ أَبِيهِ - وَكَانَ مِنْ أَهْلِ هَجَرٍ وَكَانَ فَقِيهًا - أَنَّهُ انْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي وَفْدٍ بِصَدَقَةٍ يَحْمِلُهَا إِلَيْهِ ، فَنَهَاهُمْ عَنِ النَّبِيذِ فِي هَذِهِ الظُّرُوفِ ، فَرَجَعُوا إِلَى أَرْضِهِمْ تِهَامَةَ ، وَهِيَ أَرْضٌ حَارَّةٌ ، فَاسْتَوْخَمُوا فَرَجَعُوا إِلَيْهِ الْعَامَ الثَّانِي فِي صَدَقَاتِهِمْ فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ نَهَيْتِنَا عَنْ هَذِهِ الْأَوْعِيَةِ فَتَرَكْنَاهَا فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْنَا قَالَ : " اذْهَبُوا فَاشْرَبُوا فِيمَا شِئْتُمْ وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا ، مَنْ شَاءَ أَوْكَأَ سِقَاءَهُ عَلَى إِثْمٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي تَرْجَمَةِ الرَّسِيمِ ، وَقَالَ عَنِ ابْنِ الرَّاسِبِيِّ ، عَنِ أَبِيهِ فَيُحْتَمَلُ أَنَّ الرَّسِيمِ رَاسِبِيٌّ وَاللَّهُ أَعْلَمُ . وَفِي إِسْنَادِهِ يَحْيَى بْنُ الْجَابِرِ وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ الْجُمْهُورِ وَوَثَّقَهُ أَحْمَدُ . وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابن راسبی ، اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : جن کا تعلق اہل ہجر سے تھا ، اور وہ فقیہ تھے ، وہ بیان کرتے ہیں : وہ اس وفد میں شامل ہو کر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جو اپنا صدقہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو ان برتنوں میں نبیذ پینے سے منع کر دیا ، وہ لوگ اپنی سرزمین تہامہ کی طرف واپس چلے گئے ، جو گرم سرزمین تھی وہاں کی آب و ہوا انہیں موافق نہیں آئی ، اگلے سال وہ اپنے صدقات لے کر دوبارہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ہمیں ان برتنوں سے منع کیا تھا ، ہم نے انہیں ترک کر دیا ، تو یہ چیز ہمارے لئے مشکل کا باعث ہو رہی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم جاؤ اور جس میں تم چاہو اس میں پی لو ! لیکن کوئی نشہ آور چیز نہ پینا ، اور جو شخص چاہے وہ اپنے مشکیزے کا منہ گناہ پر بند کر لے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے سیدنا رسیم رضی اللہ عنہ کے حالات میں بیان کی ہے ، اور یہ بات نقل کی ہے کہ یہ سیدنا راسبی رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کے حوالے سے ان کے والد سے منقول ہے ، تو اس بات کا احتمال موجود ہے کہ سیدنا رسیم رضی اللہ عنہ ہی راسبی ہوں ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی یحیی بن جابر ہے ، اور جمہور کے نزدیک وہ ضعیف ہے ، امام أحمد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8145
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف