حدیث نمبر: 8136
وَعَنِ أَبِي خَيْرَةَ الصُّبَاحِيِّ قَالَ : كُنْتُ فِي الْوَفْدِ الْذِينَ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكُنَّا أَرْبَعِينَ رَجُلًا فَنَهَاهُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَالْمُقَيَّرِ . قَالَ : ثُمَّ أَمَرَ لَنَا بِأَرَاكٍ فَقَالَ : " اسْتَاكُوا بِهَذِهِ " . قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عِنْدَنَا الْعُشْبَ ، وَنَحْنُ نَجْتَزِئُ بِهِ . فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِ الْقَيْسِ ; إِذْ أَسْلَمُوا طَائِعِينَ غَيْرَ كَارِهِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوخیرہ صباحی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اس وفد میں شامل تھا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا تھا ، ہم چالیس افراد تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دباء ، حنتم ، نقیر اور مقیر سے منع کیا تھا ، راوی کہتے ہیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے بارے میں پیلو کی مسواک کا حکم دیا اور فرمایا : تم اس کی مسواک کرو ! ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے ہاں ، تو گھاس ہوتی ہے ، تو ہم اسی کا ٹکڑا کاٹ لیتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ بلند کیے اور یہ دعا کی : ” اے اللہ ! عبدالقیس قبیلے کے لوگوں کی مغفرت فرما ! جبکہ وہ اپنی رضامندی کے ساتھ اسلام قبول کر رہے ہیں ، زبردستی یا مجبوری کے عالم میں اسلام قبول ) نہیں کر رہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8136
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (368/22)»