مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأشربة— مشروبات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَوْعِيَةِ . باب: برتنوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ النَّقِيرِ وَالدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ وَقَالَ : " لَا تَشْرَبُوا إِلَّا فِي ذِي إِكَاءٍ " . فَصَنَعُوا جُلُودَ الْإِبِلِ ثُمَّ جَعَلُوا لَهَا أَعْنَاقًا مِنْ جُلُودِ الْغَنَمِ فَبَلَغَهُ ذَلِكَ فَقَالَ : " لَا تَشْرَبُوا إِلَّا فِيمَا أَعْلَاهُ مِنْهُ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَحُكِيَ عَنِ ابْنِ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ : أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نقیر ، دباء اور مزفت سے منع کیا ہے ، اور ارشاد فرمایا ہے : ” تم صرف بند منہ والے برتن میں پیؤ ! “ تو لوگوں نے اونٹوں کی کھالوں کو تیار کیا اور ان کا منہ بند کرنے کے لئے بکری کی کھالوں کا بنایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : تم صرف اس میں پیؤ جو اس کا اوپری حصہ ہو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت کا ابتدائی حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبداللہ بن عبیداللہ بن عباس ہے ، اور وہ متروک ہے ، جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین سے یہ بات نقل کی گئی ہے : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، اور اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ۔