حدیث نمبر: 8124
وَعَنِ أَبِي الْقَمُوصِ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : حَدَّثَنِي أَحَدُ الْوَفْدِ الْذِينَ وَفَدُوا مِنْ عَبَدِ الْقَيْسَ قَالَ : وَأَهْدَيْنَا لَهُ فِيمَا يُهْدَى نَوْطًا ، أَوْ قِرْبَةً مِنْ تَعْضُوضٍ أَوْ بَرْنِيٍّ فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " فَقُلْنَا : هَذِهِ هَدِيَّةٌ . وَأَحْسَبُهُ نَظَرَ إِلَى تَمْرَةٍ مِنْهَا فَأَعَادَهَا مَكَانَهَا وَقَالَ : " أَبْلِغُوهَا آلَ مُحَمَّدٍ " قَالَ : فَسَأَلَهُ الْقَوْمُ عَنِ أَشْيَاءَ حَتَّى سَأَلُوهُ عَنِ الشَّرَابِ، فَقَالَ : " لَا تَشْرَبُوا فِي دُبَّاءٍ ، وَلَا حَنْتَمٍ ، وَلَا نَقِيرٍ ، وَلَا مُزَفَّتَ ، اشْرَبُوا فِي الْحَلَالِ الْمُوكَئِ عَلَيْهِ " . قَالَ لَهُ قَائِلُنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يُدْرِيكَ مَا الدُّبَّاءُ وَالْحَنْتَمُ وَالنَّقِيرُ وَالْمُزَفَّتُ ؟ قَالَ : " أَنَا لَا أَدْرِي مَاهِيَهْ ! ! أَيُّ هَجَرٍ أَعَزُّ " . قُلْنَا : الْمُشَقَّرُ قَالَ : " فَوَاللَّهِ لَقَدْ دَخَلْتُهَا وَأَخَذْتُ إِقْلِيدَهَا " . ¤ قَالَ : وَكُنْتُ نَسِيتُ مِنْ حَدِيثِهِ شَيْئًا ، فَأَذْكَرَنِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ جَرْوَةَ . قَالَ : " وَقَفْتُ عَلَى عَيْنِ الزَّارَةِ " ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِ الْقَيْسِ إِذْ أَسْلَمُوا طَائِعِينَ ، غَيْرَ كَارِهِينَ ، غَيْرَ خَزَايَا ، وَلَا مَوْتُورِينَ " ، إِذْ بَعْضُ قَوْمِنَا لَا يُسْلِمُوا حَتَّى يَخْزَوْا وَيُوتَرُوا ، قَالَ : وَابْتَهَلَ وَجْهُهُ هَاهُنَا مِنَ الْقِبْلَةِ - [يَعْنِي : عَنْ يَمِينِ الْقِبْلَةِ] - حَتَّى اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ . [ثُمَّ يَدْعُو لِعَبْدِ الْقَيْسِ ثُمَّ] قَالَ : " إِنَّ خَيْرَ [ أَهْلِ ] الْمَشْرِقِ عَبْدُ الْقَيْسِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ طَرَفًا فِي الْأَوْعِيَةِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

ابوقموص زید بن علی بیان کرتے ہیں : مجھے اس وفد کے ارکان میں سے ایک شخص نے یہ حدیث بیان کی ، جو عبدالقیس قبیلے کا وفد ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ) حاضر ہوا تھا ، وہ صاحب بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جو چیزیں پیش کیں ، ان میں ایک نوط یا قربہ ( کجھوریں رکھنے کا مخصوص برتن ) تھا ، جو تعضوض ( کھجور کی مخصوص قسم ) یا شاید برنی کا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : یہ ہدیہ ہے ، راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے کہ ایسا بھی ہوا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک کھجور کی طرف دیکھا اور پھر اسے ، اس کی جگہ پر دوبارہ رکھ دیا اور فرمایا : اسے محمد کے گھر والوں تک پہنچا دینا ! راوی کہتے ہیں : حاضرین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ چیزوں کے بارے میں دریافت کیا : یہاں تک کہ انہوں نے شراب کے بارے میں آپ سے دریافت کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم دباء ، یا حنتم ، یا نقیر ، یا مزفت میں نہ پینا ، تم حلال ( برتن ) میں پینا ، جس کے منہ کو بند کیا گیا ہو ، ہم میں سے ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کو کیسے پتہ چلا کہ دباء حنتم ، نقیر اور مزفت کیا ہوتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے نہیں پتہ ہو گا کہ وہ کیا ہوتا ہے ؟ حجر کا کون سا حصہ زیادہ غلبے والا ہے ؟ ہم نے جواب دیا : مشقر ( یہ ایک جگہ کا نام ہے ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! میں اس علاقے میں داخل ہوا اور میں نے وہاں کی اقلید ( کنجی ) کو پکڑ لیا ۔ راوی کہتے ہیں : میں اس حدیث میں سے کچھ حصہ بھول گیا ہوں ، پھر عبیداللہ بن جروہ نے مجھے یاد کروایا ، انہوں نے بتایا کہ میں ” عین زارہ “ کے پاس ٹھہرا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی : ” اے اللہ ! عبدالقیس قبیلے کے وفد کے لوگوں کی مغفرت کر دے ، جبکہ وہ اپنی رضامندی کے ساتھ اسلام قبول کر رہے ہیں زبردستی نہیں کر رہے ، کسی ندامت کے بغیر اور کسی مجبوری کے بغیر ( اسلام قبول کر رہے ہیں ) ، حالانکہ ہماری قوم کے بعض افراد نے اس وقت تک اسلام قبول نہیں کیا ، جب تک وہ رسوائی کا شکار نہیں ہوئے ، اور مجبور نہیں ہوئے ، راوی کہتے ہیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ اس طرف سے موڑا ، یعنی قبلہ کے دائیں طرف سے موڑا ، یہاں تک کہ قبلہ کی طرف کیا ، پھر عبدالقیس قبیلے کے لوگوں کے لئے دعا کرتے ہوئے یہ فرمایا : اہل مشرق میں سب سے بہتر عبدالقیس قبیلے کے لوگ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ ، جو برتنوں کے بارے میں ہے ، وہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8124
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح