مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأشربة— مشروبات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَوْعِيَةِ . باب: برتنوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ عُمَيْرٍ الْعَبْدِيِّ عَنِ أَبِيهِ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ فَلَمَّا أَرَادُوا الِانْصِرَافَ قَالُوا : قَدْ حَفِظْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كُلَّ شَيْءٍ سَمِعْتُمُوهُ مِنْهُ ، فَسَلُوهُ عَنِ النَّبِيذِ . فَأَتَوْهُ فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا فِي أَرْضٍ وَخِمَةٍ لَا يُصْلِحُنَا فِيهَا إِلَّا الشَّرَابُ قَالَ : " وَمَا شَرَابُكُمْ ؟ " قَالُوا : النَّبِيذُ . قَالَ : " فِي أَيِّ شَيْءٍ شَرِبْتُمُوهُ ؟ " قَالُوا : فِي النَّقِيرِ . قَالَ : " لَا تَشْرَبُوا فِي النَّقِيرِ " . فَخَرَجُوا مِنْ عِنْدِهِ فَقَالُوا : وَاللَّهُ لَا يُصَالِحُنَا قَوْمُنَا عَلَى هَذَا . فَرَجَعُوا فَسَأَلُوهُ فَقَالَ لَهُمْ مِثْلَ ذَلِكَ . قَالَ : " لَا تَشْرَبُوا فِي النَّقِيرِ فَيَضْرِبَ الرَّجُلُ مِنْكُمُ ابْنَ عَمِّهِ ضَرْبَةً لَا يَزَالُ مِنْهَا أَعْرَجَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . قَالَ : فَضَحِكُوا قَالَ : " أَيَّ شَيْءٍ تَضْحَكُونَ ؟ " قَالُوا : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ شَرِبْنَا فِي نَقِيرٍ لَنَا فَقَامَ بَعْضُنَا إِلَى بَعْضٍ فَضَرَبَهُ ضَرْبَةً هُوَ أَعْرَجُ مِنْهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ . وَأَشْعَثُ بْنُ عُمَيْرٍ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤اشعث بن عمیر عبدی ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : عبدالقیس قبیلے کا وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جب ان لوگوں نے واپس جانے کا ارادہ کیا ، تو ان لوگوں نے ( ایک دوسرے سے ) کہا: تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ہر چیز یاد رکھ لی ہے ، جو تم لوگوں نے آپ سے سنی تھی ، اب تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نبیذ کے بارے میں بھی دریافت کر لو ! وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم ایک ایسی سرزمین پر رہتے ہیں ، جس کی آب و ہوا موافق نہیں ہوتی ، وہاں ہمارا گزارہ صرف شراب کے ذریعے ہو سکتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہاری شراب کس چیز کی ہوتی ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : نبیذ ہوتی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم کون سی چیز میں اسے پیتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : نقیر میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نقیر میں نہ پیؤ ! وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نکلے ، لوگوں نے کہا: ہماری قوم ، تو یہ بات کبھی نہیں مانے گی ، وہ واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور آپ سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مانند ارشاد فرمایا ، آپ نے فرمایا : تم لوگ نقیر میں نہ پیؤ ! ورنہ ایسا ہو گا کہ تم میں سے کوئی ایک شخص اپنے چچازاد پر ضرب لگائے گا ، جس کے بعد وہ شخص قیامت تک لنگڑا رہے گا ، راوی کہتے ہیں : تو وہ لوگ ہنس پڑے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ کس بات پر ہنسے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، یا رسول اللہ ! ایک مرتبہ ہم نے نقیر میں مشروب پیا تھا ، تو ہم میں سے ایک شخص اُٹھ کر دوسرے کی طرف گیا اور اس نے اسے ضرب لگائی اور پھر وہ ( مضروب شخص ) قیامت کے دن تک کے لئے لنگڑا رہے گا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اشعث بن عمیر نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔