حدیث نمبر: 8123
وَعَنْ شِهَابِ بْنِ عَبَّادٍ أَنَّهُ سَمِعَ بَعْضَ وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ وَهُمْ يَقُولُونَ : قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاشْتَدَّ فَرَحُهُمْ بِنَا، فَقَالَ الْأَشَجُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ ثَقِيلَةٌ وَخِمَةٌ، وَإِنَّا إِذَا لَمْ نَشْرَبُ هَذِهِ الْأَشْرِبَةِ هَيَّجَتْ أَلْوَانَنَا، وَعَظُمَتْ بُطُونُنَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَشْرَبُوا فِي الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَلْيَشْرَبْ أَحَدُكُمْ عَلَى سِقَاءٍ يُلَاثُ عَلَى فِيهِ " . فَقَالَ لَهُ الْأَشَجُّ : بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ رَخِّصْ لَنَا فِي مِثْلِ هَذِهِ ، وَقَالَ بِكَفَّيْهِ هَكَذَا . فَقَالَ : " يَا أَشُجُّ إِنْ رَخَّصْتُ لَكَ فِي مِثْلِ هَذِهِ - وَقَالَ بِكَفَّيْهِ هَكَذَا - شَرِبْتَهُ فِي مِثْلِ هَذِهِ " [وَفَرَّجَ يَدَيْهِ] وَبَسَطَهَا . ¤ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَهُوَ بِطُولِهِ فِي الْبِرِّ وَالصِّلَةِ فِي إِكْرَامِ الضَّيْفِ ، وَاخْتَصَرْتُ هَذَا مِنْهُ وَهُوَ بِحُرُوفِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

شہاب بن عباد بیان کرتے ہیں : انہوں نے عبدالقیس قبیلے کے بعض افراد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا : وہ کہتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری وجہ سے بہت خوش ہوئے ، اشج نے کہا: یا رسول اللہ ! ہماری زمین گرانی والی اور نا موافق آب و ہوا والی ہے ، اگر ہم یہ شراب نہ پییں ، تو ہمارے رنگ جوش مارنے لگتے ہیں ، ہمارے پیٹ بڑھ جاتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم دباء ختم اور نقیر میں نہ پیؤ ، تم میں سے کوئی ایک شخص ایسے مشکیزے میں پیئے ، جس کا منہ بند کر دیا جاتا ہے ، اشج نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ ہمیں اتنی سی استعمال کرنے کی اجازت دیدیں ، انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ ملا کر اس طرح کر کے عرض کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اشج ! اگر میں تمہیں اتنی سی کی رخصت دیدوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کے ذریعے اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ، تو تم اس سے اتنی پی لو گے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو کھلا کر کے پھیلا دیا ( اور پھر یہ بات ارشاد فرمائی ) ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث نقل کی ہے ۔ یہ پوری روایت نیکی اور صلہ رحمی سے متعلق باب میں ، مہمان کی عزت افزائی سے متعلق باب میں آگے آئے گی ، میں نے یہاں اس کا اختصار نقل کیا ہے لیکن اس کے الفاظ یہی ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8123
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (206/4)»