مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأشربة— مشروبات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَوْعِيَةِ . باب: برتنوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ صُهَيْرَةَ بِنْتِ جَيْفَرَ سَمِعْتُ مِنْهَا قَالَتْ : حَجَجْنَا ثُمَّ انْصَرَفْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَدَخَلْنَا عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ ، فَوَافَقْنَا عِنْدَهَا نِسْوَةً مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ فَقُلْنَ لَنَا : إِنْ شِئْتُنَّ سَأَلْتُنَّ وَسَمِعْنَا ، وَإِنْ شِئْتُنَّ سَأَلْنَا وَسَمِعْتُنَّ ؟ فَقُلْنَا : سَلْنَ . فَسَأَلْنَ عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ أَمْرِ الْمَرْأَةِ وَزَوْجِهَا وَمِنْ أَمْرِ الْمَحِيضِ ، ثُمَّ سَأَلْنَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ فَقَالَ : أَكْثَرْتُمْ عَلَيْنَا يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ فِي نَبِيذِ الْجَرِّ حَرَّمَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَبِيذَ الْجَرِّ ، وَمَا عَلَى إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَطْبُخَ تَمْرَهَا ، ثُمَّ تُدَلِّكُهُ ، ثُمَّ تُصَفِّيهِ فَتَجْعَلُهُ فِي سِقَائِهَا ، وَتُوكِئَ عَلَيْهِ فَإِذَا طَابَ شَرِبَتْ وَسَقَتْ زَوْجَهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو يَعْلَى وَ صُهَيْرَةُ لَمْ يَرْوِ عَنْهَا غَيْرُ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ فِيمَا وَقَفَتْ عَلَيْهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤صہیرہ بنت جیفر بیان کرتی ہیں : ہم لوگ حج کے لئے گئے ، پھر ہم واپسی پر مدینہ منورہ آئے ، ہم لوگ سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے ، وہاں اہل کوفہ سے تعلق رکھنے والی کچھ خواتین موجود تھیں ، ان خواتین نے ہم سے کہا: اگر تم لوگ چاہو ، تو تم سوال کر لو ، ہم جواب سن لیں گی ، اور اگر تم چاہو ، تو ہم سوال کرتی ہیں ، تم سن لینا ، ہم نے کہا: تم پوچھ لو ! تو ان خواتین نے میاں بیوی کے معاملات ، حیض کے احکام کے بارے میں کچھ چیزوں سے متعلق دریافت کیا ، پھر انہوں نے گھڑے کی نبیذ کے بارے میں دریافت کیا ، تو سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اے اہل عراق ! گھڑے کی نبیذ کے بارے میں تم نے ہم سے بکثرت سوالات کر لئے ہیں اللہ کے رسول نے گھڑے کی نبیذ کو حرام قرار دیا ہے ، اور تم خواتین میں سے کسی ایک پر کوئی حرج نہیں ہو گا کہ اگر وہ اپنی کھجوروں کو دھوئے پھر انہیں ملے اور پھر انہیں صاف کرے اور پھر انہیں مشکیزے میں ڈال دے ، پھر اس کا منہ بند کر دے ، جب وہ پاکیزہ ہو جائے ، تو پھر اسے پی لے اور اپنے شوہر کو بھی پلا دے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام طبرانی اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ صہیرہ نامی خاتون سے یعلی بن حکیم کے علاوہ کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے ، یہ اس کے مطابق ہے ، جس سے میں واقف ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔