مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأشربة— مشروبات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَوْعِيَةِ . باب: برتنوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ الْفُضَيْلِ بْنِ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْقِلٍ فَتَذَاكَرْنَا الشَّرَابَ فَقَالَ : الْخَمْرُ حَرَامٌ . فَقُلْتُ : الْخَمْرُ حَرَامٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ : فَأَيْشُ تُرِيدُ ؟ تُرِيدُ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْهَى عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالْمُزَفَّتِ . قُلْتُ : مَا الْحَنْتَمُ ؟ قَالَ : خَضْرَاءُ وَبَيْضَاءُ . قَالَ : قُلْتُ : مَا الْمُزَفَّتُ ؟ قَالَ : كُلُّ مُقَيَّرٍ مِنْ زِقٍّ أَوْ غَيْرِهِ . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : وَالنَّقِيرُ . وَقَالَ : فَانْطَلَقْتُ إِلَى السُّوقِ فَاشْتَرَيْتُ أَفِيقَةً فَمَا زَالَتْ مُعَلَّقَةً فِي بَيْتِي . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بَعْضُهُ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا الْفُضَيْلِ بْنِ زَيْدٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤فضیل بن یزید رقاشی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا عبداللہ بن معقل رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے ، ہم نے شراب کے بارے میں گفتگو شروع کی ، تو انہوں نے فرمایا : خمر حرام ہے ، میں نے کہا: خمر کے حرام ہونے کا ذکر ، اللہ کی کتاب میں ہے ؟ انہوں نے فرمایا ، پھر تم اور کیا چاہتے ہو ؟ کیا تم وہ ( حدیث سننا ) چاہتے ہو ؟ کہ جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے ، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دباء ، ختم اور مزفت سے منع کرتے ہوئے سنا ہے ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) میں نے دریافت کیا : حنتم کیا ہوتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : یہ سبز اور سفید رنگ کا ہوتا ہے ، میں نے دریافت کیا : مزفت کیا ہوتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ہر مقیر چیز ، خواہ وہ مشکیزہ ہو ، یا اُس کے علاوہ کوئی اور چیز ہو ۔ ایک روایت میں لفظ ” نقیر “ منقول ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : میں بازار کی طرف گیا ، میں نے چمڑا خریدا ، وہ ہمیشہ میرے گھر میں لٹکا رہتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف فضیل بن زید کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔