مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأشربة— مشروبات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَوْعِيَةِ . باب: برتنوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ أَبِي إِسْحَاقَ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ أَنَّهُمْ ذَكَرُوا يَوْمًا مَا يُنْتَبَذُ فِيهِ ، فَتَنَازَعُوا فِي الْقَرْعِ ، فَمَرَّ بِهِمْ أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ فَأَرْسَلُوا إِلَيْهِ فَقَالُوا : يَا أَبَا أَيُّوبَ الْقَرْعُ يَنْتَبِذُ فِيهِ ؟ فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْهَى عَنْ كُلِّ مُزَفَّتٍ يُنْتَبَذُ فِيهِ فَرَدَّ عَلَيْهِ الْقَرْعَ فَرَدَّ أَبُو دَاوُدَ مِثْلَ قَوْلِهِ الْأَوَّلِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو إِسْحَاقَ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ مَسْتُورٌ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ وَفِيهِ ضَعْفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤ابواسحاق ، جو بنو ہاشم کے آزاد کردہ غلام ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : ان لوگوں نے ایک دن اُس چیز کا ذکر کیا ، جس میں نبیذ تیار کی جاتی ہے ، تو کدو کے بنے ہوئے برتن کے بارے میں اُن کے درمیان اختلاف ہو گیا ، سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے پاس سے گزرے ، اُن لوگوں نے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج کر دریافت کیا : اے سیدنا ابوایوب ! کدو میں نبیذ تیار کی جا سکتی ہے ؟ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر مزفت چیز سے منع کرتے ہوئے سنا ہے ، جس میں نبیذ تیار کی جائے ۔ تو انہوں نے کدو کے بارے میں ( جواز کو ) مسترد کر دیا ، ابوداؤد نے ان کے پہلے قول کی مانند جواب نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ ابواسحاق جو بنو ہاشم کے غلام ہیں ، وہ مستور ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔