حدیث نمبر: 8101
عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ الْأَوْعِيَةِ فَقَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْمُزَفَّتَةِ وَقَالَ : " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " . ¤ قَالَ : قُلْتُ : وَمَا الْمُزَفَّتَةُ ؟ قَالَ : الْمُقَيَّرُ . قَالَ : قُلْتُ : فَالرَّصَاصُ وَالْقَارُورَةُ ؟ قَالَ : وَمَا بَأْسٌ بِهِمَا ؟ قَالَ : قُلْتُ : فَإِنَّ نَاسًا يَكْرَهُونَهُمَا . قَالَ : دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ ، فَإِنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ . قَالَ : قُلْتُ : صَدَقْتَ السُّكْرُ حَرَامٌ فَالشَّرْبَةُ وَالشَّرْبَتَانِ عَلَى طَعَامِنَا ؟ قَالَ : الْمُسْكِرُ قَلِيلُهُ وَكَثِيرُهُ حَرَامٌ . وَقَالَ : الْخَمْرُ مِنَ الْعِنَبِ ، وَالتَّمْرِ ، وَالْعَسَلِ ، وَالْحِنْطَةِ ، وَالشَّعِيرِ ، وَالذُّرَةِ فَمَا خُمِّرَتْ مِنْ تِلْكَ فَهُوَ الْخَمْرُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : حُرِّمَتِ الْخَمْرُ ، وَهِيَ مِنَ الْعِنَبِ ، وَالتَّمْرِ ، وَالْعَسَلِ ، وَالْحِنْطَةِ ، وَالشَّعِيرِ ، وَالذُّرَةِ فَذَكَرَهُ . وَزَادَ الْبَزَّارُ بَعْدَ قَوْلِهِ : دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ ؛ فَإِنَّهَا كَلِمَةُ حُكْمٍ أَخَذَ بِهَا مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ . ¤ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

مختار بن فلفل بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے برتنوں کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ” مزفت “ سے منع کیا ہے ، اور یہ ارشاد فرمایا ہے : ” ہر نشہ آور چیز حرام ہے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا : مزفت سے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : مقیر ( تارکول جیسی ایک چیز ) ، راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : سیسے ( یا قلعی ) اور شیشے کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : اس میں کوئی حرج نہیں ہے میں نے دریافت کیا : لوگ ان دونوں کو ناپسندیدہ قرار دیتے ہیں ، انہوں نے کہا: جو چیز تمہیں شک میں مبتلا کرتی ہے اسے چھوڑ کر اس چیز کی طرف چلے جاؤ ، جو تمہیں شک میں مبتلا نہیں کرتی ہے ، ویسے ہر نشہ آور چیز حرام ہے ، میں نے کہا: آپ نے ٹھیک کہا: ہے ، ہر نشہ آور چیز حرام ہے ، خواہ ہمارے کھانے کے بعد اس کے ایک یا دو گھونٹ ہوں ؟ انہوں نے کہا: نشہ آور چیز کی تھوڑی اور زیادہ مقدار حرام ہے ، پھر انہوں نے کہا: خمر کشمش سے ، کھجور سے ، شہد سے ، گندم سے ، جو سے اور گیہوں سے بنائی جاتی ہے ، ان میں سے جو بھی خمر ہو گی ، وہ خمر شمار ہو گی ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” خمر کو حرام قرار دیا گیا ہے ، یہ کشمش ، کھجور ، شہد ، گندم ، جو اور گیہوں سے بنائی جاتی ہے “ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ، امام بزار نے ان کے ان الفاظ کے بعد : ” تم اس چیز کو چھوڑ دو ! جو تمہیں شک میں مبتلا کرے ، اور اس چیز کی طرف جاؤ ، جو تمہیں شک میں مبتلا نہ کرے “ ۔ اس کے بعد یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” یہ ایک فیصلہ کن بات ہے ، تم سے پہلے کے لوگوں نے اسے اختیار کر لیا تھا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اور امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8101
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2920) اخرجه أبو يعلى فى المسند (3966) اخرجه أحمد فى المسند (112/3)»