مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأطعمة— کھانوں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ تَحِلُّ لَهُ الْمَيْتَةُ . باب: اس شخص کا بیان ، جس کے لئے مردار حلال ہو جاتا ہے
عَنِ أَبِي وَاقِدٍ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضٍ تُصِيبُنَا بِهَا الْمَخْمَصَةُ فَمَا يَصْلُحُ لَنَا مِنَ الْمَيْتَةِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا لَمْ تَصْطَبِحُوا ، وَلَمْ تَغْتَبِقُوا ، وَلَمْ تَحْتَفِئُوا بَقْلًا فَشَأْنُكُمْ بِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ كَثِيرَةٌ فِي حَلْبِ الْمَوَاشِي بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهَا وَالْأَكْلِ مِنَ الْبَسَاتِينِ وَنَحْوِ ذَلِكَ فِي الْغَصْبِ وَالْبَيْعِ . ¤سیدنا ابوواقد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم ایسی سرزمین پر رہتے ہیں جہاں ہمیں بھوک لاحق ہو جاتی ہے ، تو مردار میں سے کیا استعمال کرنا ہمارے لئے درست ہو گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تمہارے پاس پکانے کے لئے کچھ نہ ہو اور رات کے کھانے کے لئے کچھ نہ ہو اور سبزی بھی پکانے کے لئے نہ ہو ، تو پھر تم اسے استعمال کر سکتے ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ اس سے پہلے بہت سی احادیث گزر چکی ہیں جو جانوروں کا دودھ ان کے مالکان کی اجازت کے بغیر دوہنے کے بارے میں یا باغات میں سے کچھ کھا لینے کے بارے میں ہے ، اور اس کی مانند دیگر امور کے بارے میں ہیں یہ غصب اور خرید و فروخت سے متعلق باب میں گزری ہیں ۔