حدیث نمبر: 8023
وَعَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ عَلَى ابْنِ مُطِيعٍ فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكَ فَقَالَ : وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَمَرْحَبًا وَأَهْلًا وَسَهْلًا بِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ضَعُوا لَهُ وِسَادَةً فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " ثَلَاثٌ لَا تُرَدُّ : اللَّبَنُ وَالْوِسَادَةُ وَالدُّهْنُ " مَا جَلَسْتُ عَلَيْهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین

مسلم بن جندب بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ابن مطیع کے پاس آیا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: آپ پر سلام ہو ۔ انہوں نے کہا: آپ پر بھی سلام ہو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوں اے ابوعبدالرحمن آپ کو خوش آمدید ہے ( پھر انہوں نے اپنے خادموں سے کہا: ( ان کے لئے تکیہ رکھو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا ” تین چیزوں کو واپس نہیں کیا جائے گا دودھ ، تکیہ اور تیل “ ۔ تو میں نے اس پر نہیں بیٹھنا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 8023
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن لغيرہ
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13279)»